30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کبیرہ نمبر294: شرعی طور پر ثابت نسب میں طعن کرنا
اللہ عَزَّوَجَلَّکافرمانِ عالیشان ہے:وَالَّذِیۡنَ یُؤْذُوۡنَ الْمُؤْمِنِیۡنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ بِغَیۡرِ مَا اکْتَسَبُوۡا فَقَدِ احْتَمَلُوۡا بُہۡتٰنًا وَّ اِثْمًا مُّبِیۡنًا ﴿٪۵۸﴾ (پ۲۲، الاحزاب:۵۸)
ترجمۂ کنزالایمان :اور جو ایمان والے مردوں اور عورتوں کو بے کئے ستاتے ہیں انہوں نے بہتان اور کھلا گناہ اپنے سر لیا۔
{1}…حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ نورکے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ معظَّم ہے: ’’لوگوں میں دو خصلتیں ایسی ہیں جن کی وجہ سے وہ کفر میں مبتلا ہیں : (۱)…نسبوں میں طعن کرنا اور (۲)…میت پر رونا۔‘‘ (۱)
تنبیہ:اس حدیث پاک کے ظاہری مفہوم کی بنا پراسے کبیرہ گناہ شمار کیا گیا ہے اگرچہ میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے نہیں دیکھا۔
کبیرہ نمبر295: عورت کازنا یا شبہ کی وطی کے ساتھ بچے کو ایسی
قوم میں داخل کرناجس میں سے وہ نہ ہو
{1}…حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : جب لعان والی آیت ِمبارکہ نازل ہوئی تو سرکارِ مکۂ مکرمہ، سردارِ مدینۂ منورہ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’جس عورت نے بچے کو ایسی قوم میں داخل کیا جس میں سے وہ نہ ہو تواس کا اللہ عَزَّوَجَلَّ سے کوئی واسطہ نہ رہااور وہ اسے جنت میں داخل نہ فرمائے گا اور جس مردنے جان بوجھ کر اپنے بچے کا انکار کیا اس حال میں کہ وہ اس کی طرف دیکھ رہا ہو تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے اپنا دیدار نہ کرائے گا اور اسے اولین وآخرین(یعنی اگلوں پچھلوں ) کے سامنے ذلیل ورسوا کرے گا۔‘‘ (۲)
۞۞۞۞۞۞۞
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…صحیح مسلم ،کتاب الایمان ،باب اطلاق اسم الکفر علی الطعن…الخ،الحدیث:۲۲۷،ص۶۹۱۔
2…سنن أبی داود،کتاب الطلاق ،باب التغلیظ فی الانتفائ، الحدیث:۲۲۶۳،ص۱۳۹۰،بدون:الخلائق۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع