30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۵۴)…نکاح نہ کرنے والے مرد اور عورتیں (۵۵)…چٹیل میدان میں تنہا سفر کرنے والا (۵۶)… جس نے کسی جاندار کو نشانہ بازی کے لئے ہدف بنایا(۵۷)…جس نے دین میں کوئی (خلاف شرع)نئی بات نکالی (۵۸)…جس نے بدعتی کو پناہ دی (۵۹)…جس نے قبروں پر چراغ جلایا(۱) (۶۰)…جس نے قبرپر مسجد بنائی(۲)اور
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…مفسر شہیر حکیم الامت حضرت علامہ مولانامفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحنَّان(متوفی۱۳۹۱ھ)مراٰۃ المناجیح ،جلد2، صفحہ492پر حضرت ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی حدیث ِ پاک کے اس حصہ ’’اَنَّ النَّبِیَّ دَخَلَ قَبْرًا لَیْلًا فَاَسْرَجَ لَہٗ بِسِرَاجٍ یعنی نبی ٔ کریمصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمرات کے وقت قبرمیں تشریف لے گئے توآپ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کے لئے چراغ جلایاگیا‘‘کی شرح کرتے ہوئے ارشادفرماتے ہیں : ’’یعنی رات میں میِّت کودفن کیاتومیت کے لئے یاحضورصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے لئے چراغ کی روشنی کی گئی۔اس سے دومسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ قبرپرآگ لے جانا منع ہے مگرچراغ لے جانا جائز کیونکہ یہ روشنی کے لئے ہے نہ کہ مشرکین سے مشابہت کے لئے، مشرکین میت کے ساتھ آگ لے جاتے ہیں آگ کی پوجاکرنے یامیت کو جلانے کے لئے لہٰذابزرگوں کے مزارکے پاس لَوبان یااگربَتِّی جلانا جائز ہے تاکہ میت کوفرحت ہو اورزائرین کوراحت ،اسی لئے میت کے کفن کو دھونی دیناسنت جسے فقہاء اِسْتِجْمَارکہتے ہیں ،دوسرے یہ کہ ضرورت کے وقت قبر پر چراغ جلاناجائزہے لہٰذاجن بزرگوں کے مزاروں پردن رات زائرین کاہجوم اورتلاوتِ قرآن کادَور(یعنی سلسلہ)رہتاہے وہاں ضروررات کوروشنی کی جائے اس کا ماخذ یہ حدیث ہے،حضورصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمکے روضۂ انورپرہمیشہ سے اوراب ’’نجدیوں ‘‘کے زمانہ میں اورزیادہ اعلیٰ درجہ کی روشنی ہوتی ہے خاص گنبدشریف پر بیسیوں قمقمے نصب ہیں جن احادیث میں قبرپرچراغ جلانے سے ممانعت ہے وہاں بلاضرورت چراغ رکھ آنامرادہے کہ اس میں اسراف ہے۔ خیال رہے کہ بزرگوں کااحترام ظاہرکرنے کے لئے بھی روشنی کرسکتے ہیں جیسے کعبۂ معظمہ کے ا حترام کے لئے اس پرغلاف رہتاہے اوردروازۂ کعبہ پربڑی قیمتی شمع کافوری جلائی جاتی ہے، رمضان میں مسجدوں کا چراغاں بھی یہیں سے لیاگیا۔‘‘
2…مراٰۃ المناجیح ،جلد1، صفحہ440پر ہے کہ ’’خیال رہے کہ بزرگوں کے آستانوں کے برابر مسجد بنانا اور برکت کے لیے وہاں نمازیں پڑھنا قرآن شریف اور بہت احادیث سے ثابت ہے سورہ کہف میں ہےلَنَتَّخِذَنَّ عَلَیۡہِمۡ مَّسْجِدًا یعنی مسلمانوں نے کہا کہ ہم اصحاب کہف کے غار پر مسجد بنائیں گے۔ حضور صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کے روضہ انور اور اکثر صحابہ کے مزارات کے پاس مسجدیں ہیں یہ خود صحابہ یا صالحین نے بنائیں ‘ اب مزارات اولیاء اﷲ کے پاس عامۃ المسلمین مسجدیں بناتے ہیں ‘ مقبولوں کے قرب میں نماز زیادہ قبول ہوتی ہے۔ مسجد نبوی میں ایک نماز کا ثواب پچاس ہزار ہے حضور انور کے قرب کی وجہ سے۔ رب تعالیٰ نے گنہگاروں اسرائیلیوں سے فرمایا تھا ’’اُدْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَّقُوۡلُوۡا حِطَّۃٌ‘‘ یعنی بیت المقدس کے دروازے میں سجدہ کرتے گھسو اور وہاں جا کر توبہ کرو قبور انبیاء کی برکت سے توبہ قبول ہوگی ۔ زکریا عَلَیْہِ السَّلَام کا واقعہ بیان فرماتا ہے ’’ ہُنَالِکَ دَعَا زَکَرِیَّا رَبَّہٗ‘‘ وہاں بی بی مریم کے پاس کھڑے ہو کر زکریا عَلَیْہِ السَّلَام نے بیٹے کی دعا مانگی‘ ان آیات سے معلوم ہوا کہ بزرگوں کے قرب میں توبہ اور دعا بہت قبول ہوتی …
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع