30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مبارکہ میں درج ذیل احکام مذکور ہیں : (۱)…مسلمان کو گالی دینا فسق ہے جو ہلاکت کی طرف لے جاتا ہے اور ایسا کرنے والا شیطان ہے (۲)…والدین پر لعنت بھیجنا سب سے بڑا گناہ ہے۔ اسی لئے میں نے اس کا علیحدہ ذکر کیا اگرچہ یہ مسلمان کو گالی دینے یا لعنت کرنے میں داخل ہے(۳)…مومن پر لعنت بھیجنااسے قتل کرنے کی مثل ہے (۴)… جس نے اپنے بھائی پر لعنت بھیجی وہ کبیرہ گناہوں کے دروازے پر آ گیا (۵)…ناحق لعنت، بھیجنے والے کی طرف لوٹ آتی ہے اور (۶)…دوسروں کو لعن طعن کرنے والا بروزِ قیامت شفیع ہوگا، نہ گواہ اور نہ ہی صدیق۔ بیان کردہ تمام احکام انتہائی شدید وعیدیں ہیں۔ اس سے ظاہر ہوا کہ یہ تینوں کبیرہ گناہ ہیں۔ پہلے گناہ کے کبیرہ ہونے کے بارے میں ہمارے(شافعی ) ائمۂ کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کے ایک گروہ نے تصریح کی ہے لیکن اکثر کے نزدیک قابلِ اعتماد بات اس کا کبیرہ نہ ہونا ہے اور انہوں نے اس حدیث ِ پاک کہ’’مسلمان کو گالی دینا فسق ہے۔‘‘ (۱) کو اس پر محمول کیا ہے کہ ’’جب یہ فعل اس سے بار بار صادر ہو اس اعتبار سے کہ اس کی نیکیوں پر غالب آ جائے۔‘‘
شرح مسلم کے قول سے یہی ظاہر ہوتا ہے :مسلمان کو لعنت کرنا قتل کی مثل گناہ ہے۔(۲)جانوروں کو لعنت کرنے کی مذمت پر مذکور احادیث ِ مبارکہ سے معلوم ہوا کہ جانوروں کو لعنت کرنا حرام ہے اور ہمارے(شافعی) ائمۂ کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامنے یہی وضاحت کی۔ لیکن ظاہر یہ ہے کہ’’یہ صغیرہ گناہ ہے کیونکہ اس میں بہت بڑا فساد نہیں پایا جاتا۔ آپصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اونٹنی کو لعن طعن کرنے والے کو سزا کے طور پر اونٹنی چھوڑنے کا حکم دیا اور یہ اس بات پر دلالت نہیں کرتا کہ یہ کبیرہ گناہ ہے۔ خاص طور پر دوسری حدیث میں اونٹنی چھوڑنے کے حکم کی علت بیان کی گئی کہ ’’تیری اپنی سواری پر لعنت کی دعا قبول ہو گئی۔‘‘
حضرت سیِّدُنا امام ابو زکریا یحییٰ بن شرف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے اپنی کتاب ’’رِیَاضُ الصَّالِحِیْن ‘‘میں یہ 2 احادیث ِ مبارکہ نقل فرمائیں : ’’(۱)…اس سے سامان اُتار لو اور اسے چھوڑ دو کیونکہ یہ ملعونہ ہے اور(۲)… ہمارے ساتھ ایسی اونٹنی پر سفر نہ کرو جس پر لعنت کی گئی ہے۔‘‘ اور اس کے بعد ارشاد فرمایا: ’’اس کے معنی میں اشکال سمجھا گیا ہے حالانکہ اس میں کوئی اشکال نہیں بلکہ اس سے مراد تو صرف آپصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ اس اونٹنی پر سفر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…صحیح البخاری،کتاب الایمان،باب خَوْفِ الْمُؤْمِنِ مِنْ اَنْ یَّحْبِطَ عَمَلُہٗ وَہُوَ لَا یَشْعُرُ،الحدیث:۴۸،ص۶۔
2… شرح صحیح مسلم للنووی،کتاب البر والصلۃ والآداب،باب النہی عن لعن الدواب وغیرہا،ج۱۶،ص۱۴۹۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع