30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہے۔ البتہ! کسی نابالغ بچی، لونڈی اور بے حیا آزاد عورت پر تہمت لگانا صغیرہ گناہ ہے۔‘‘
حضرت سیِّدُنا علامہ جلال بلقینیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیفرماتے ہیں :’’حضرت سیِّدُنا حلیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی (متوفی۴۰۳ھ) کے اس قول پر اعتراض یہ ہے کہ نابالغ بچی پر تہمت لگانا اس وقت صغیرہ ہے جبکہ تہمت لگانے والے کو قطعی طور پر جھٹلانا ممکن ہو یعنی وہ اس قدر کم سن ہو کہ اس سے جماع نہ ہو سکتا ہو۔ جبکہ لونڈی پر تہمت لگانے کو مطلقًا صغیرہ قرار دینے میں علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام نے توقف فرمایا ہے۔ خصوصاً وہ لونڈیاں جو اُمِّ ولد ہوں کیونکہ اس میں ان کی، ان کے آقاؤں ، اولاد اور ان کے بقیہ خاندان والوں کی اذیَّت پائی جاتی ہے۔ خاص طور پر اس صورت میں کہ جب لونڈی کا مالک اس (لونڈی کے بچے) کے اصول میں سے ہو۔‘‘
درحقیقت حضرت سیِّدُنا امام اذرعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی (متوفی۷۸۳ھ) نے حضرت سیِّدُنا علامہ جلال بلقینی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیکو شبہ میں ڈالا جب انہوں نے حضرت سیِّدُنا حلیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی(متوفی۴۰۳ھ) کے متعلق فرمایا کہ ’’ان کا صرف پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانے کو کبیرہ کہنا تسلیم نہیں کیا جائے گا کیونکہ مردوں پر تہمت لگانا بھی کبیرہ گناہ ہے۔ اگرچہ حدیث ِ پاک میں صرف پاک دامن عورتوں کا ذکر ہے لیکن آپ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دیگر عورتوں پر بھی تہمت لگانے سے منع فرمایا کیونکہ اس تفریق کا قائل کوئی بھی نہیں۔ یہ اسی طرح ہے جیسے لونڈیوں کے بیان میں غلاموں کا بھی ذکر کیا جاتا ہے۔‘‘ چنانچہ، حدیثِ پاک گزر چکی ہے کہ آپصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:’’جس نے اپنے غلام پر زنا کی تہمت لگائی قیامت کے دن اسے حد لگائی جائے گی مگر یہ کہ وہ ایساہی ہو جیسا اس نے کہا۔‘‘ (۱)
بہت سے جاہل ایسی بری گفتگو میں مبتلا ہیں جو دنیا و آخرت میں سزا کا موجب بن سکتی ہے۔ چنانچہ،
زبان کی حفاظت کا حکم:
{11}…خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن،رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْنصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عبرت نشان ہے: ’’بے شک بندہ ایک بات کہتا ہے جس میں غور وفکر نہیں کرتا تو اس کی وجہ سے جہنم میں مشرق ومغرب کے درمیان فاصلہ سے زیادہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…صحیح مسلم ،کتاب الأیمان ،باب التغلیظ علی من قذف مملوکہ بالزنٰی،الحدیث:۴۳۱۱،ص۹۶۹۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع