30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
شریک ٹھہرانا(۲)جادو کرنا(۳)کسی کوناحق قتل کرنا جس کے قتل کو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے حرام ٹھہرایا ہو(۴)سود کھانا (۵)یتیم کا مال کھانا (۶)جنگ کے دن پیٹھ پھیر لینا اور (۷)پاک دامن سیدھی سادی مومن عورتوں پر تہمت لگانا۔ (۱)
{10}…حُسنِ اَخلاق کے پیکر، مَحبوبِ رَبِّ اَکبرصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:’’بے شک قیامت کے دن اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نزدیک سب سے بڑے گناہ یہ ہوں گے: (۱)اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ساتھ شریک ٹھہرانا(۲)کسی مومن کو ناحق قتل کرنا (۳)جنگ کے دن میدانِ جہادسے بھاگ جانا(۴)والدین کی نافرمانی کرنا (۵)پاک دامن عورت پر تہمت لگانا اور(۶)جادو سیکھنا۔‘‘(۲)
تنبیہ:
قذف کو کبیرہ گناہوں میں شمار کیا گیا ہے، اس پر علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کا اتفاق ہے جیسا کہ آپ گزشتہ آیاتِ مقدسہ کی وضاحت میں جان چکے ہیں کہ پہلا گناہ تو صرا حتاًکبیرہ ہے کیونکہ اس کے بارے میں نص ہے کہ یہ فسق ہے۔ جبکہ دوسرا گناہ ضمناً کبیرہ قرار دیا گیا ہے کیونکہ اس پرنص وارد ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ ایسا کرنے والے پر دنیا و آخرت میں لعنت فرمائے گا اور یہ سب سے بری اور شدید وعید ہے۔
تہمت سن کر اس پر خاموش رہنے کو بھی کبیرہ شمار کیا گیا ہے جیسا کہ بعض علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام نے اس کا ذکر بھی کیا ہے اور اس بات پر اسے قیاس کیا ہے کہ جس طرح غیبت سن کر اس پر خاموش رہنا کبیرہ گناہ ہے اسی طرح تہمت سن کر اس کی تردید کرنے کے بجائے خاموش رہنا بدرجۂ اولیٰ کبیرہ گناہ ہے۔ اس کے بارے میں مفصل بحث گزر چکی ہے۔
میں نے عنوان میں تہمت کو زنا اور لواطت سے مقید کیا ہے اور حضرت سیِّدُنا امام ابو زرعہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اسے اپنی شرح جَمْعُ الْجَوَامِع میں ذکر کیا ہے۔ لیکن ظاہر یہی ہے کہ کبیرہ ہونے کے لئے یہ شرط نہیں بلکہ یہ قید صرف اس کے مزید قبیح اور فحش ہونے پر دلالت کرتی ہے۔ اسی وجہ سے ہمارے اصحاب(یعنی شافعی علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام )میں سے حضرت سیِّدُنا علامہ شریح رُویانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی ارشاد فرماتے ہیں : ’’جھوٹی تہمت لگانا کبیرہ گناہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…صحیح مسلم ،کتا ب الاِیمان ،باب الکبائر واکبر ھا،الحدیث:۲۶۲،ص۶۹۳۔
2…الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان ،کتاب التاریخ ،باب کتب النبی،الحدیث:۶۵۲۵،ج۸،ص۱۸۱۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع