30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عالیشان ہے: وَ یَوْمَ یُحْشَرُ اَعْدَآءُ اللہِ اِلَی النَّارِ فَہُمْ یُوۡزَعُوۡنَ ﴿۱۹﴾ حَتّٰۤی اِذَا مَا جَآءُوۡہَا شَہِدَ عَلَیۡہِمْ سَمْعُہُمْ وَ اَبْصٰرُہُمْ وَ جُلُوۡدُہُمْ بِمَا کَانُوۡا یَعْمَلُوۡنَ ﴿۲۰﴾ (پ۲۴،حم السجدۃ:۱۹،۲۰)
ترجمۂ کنزالایمان:اور جس دن اللہ کے دشمن آگ کی طرف ہانکے جائیں گے تو ان کے اگلوں کو روکیں گے یہاں تک کہ پچھلے آملیں یہاں تک کہ جب وہاں پہنچیں گے ان کے کان اور ان کی آنکھیں اور ان کے چمڑے سب ان پر ان کے کئے کی گواہی دیں گے۔
جو کہتے ہیں کہ مذکورہ آیت ِ مبارکہ کا حکم عام ہے، وہ اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ ممکن ہے کہ یہ تمام سزا ام المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَــا ، دیگر امہات المؤمنینرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ اور دوسری عورتوں کو تہمت لگانے والے کے لئے ہو مگر یہ سزا عدمِ توبہ کے ساتھ مشروط ہے کیونکہ پختہ اصولوں سے یہ بات معلوم ہے کہ گناہ چاہے کفر ہو یا فسق، توبہ سے معاف ہو جاتا ہے۔ (۱)
’’یَّوْمَ تَشْہَدُ عَلَیۡہِمْ اَلْسِنَتُہُمْ‘‘ یہ ان کے مونہوں پر مہر لگانے سے پہلے ہو گا جو کہ سورۂ یٰسین میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے اس فرمانِ عالیشان میں مذکور ہے کہ، اَلْیَوْمَ نَخْتِمُ عَلٰۤی اَفْوٰہِہِمْ (پ۲۳، یٰس:۶۵)
ترجمۂ کنزالایمان:آج ہم ان کے مونہوں پرمہرکردیں گے۔
مروی ہے کہ’’ان کے مونہوں پر مہر لگا دی جائے گی تو ان کے ہاتھ اور پاؤں اس کی گواہی دیں گے جو کچھ انہوں نے دنیا میں کیا۔‘‘اور ایک قول یہ ہے کہ’’بعض کی زبانیں بعض کے خلاف گواہی دیں گی۔‘‘ (۲)
’’دِیۡنَہُمُ الْحَقَّ‘‘ کا معنی یہ ہے کہ ان کی واجب جزا اور ایک قول یہ ہے کہ ان کا برابر حساب۔ ’’وَ یَعْلَمُوۡنَ اَنَّ اللہَ ہُوَ الْحَقُّ‘‘ سے مراد یہ ہے کہ وہ ایسا واجب الوجود ہے جو زوال و انتقال قبول کرتا ہے نہ ابتدا و انتہا۔ نیز اس کے علاوہ کسی اور کی عبادت جائز نہیں۔ ’’الْمُبِیۡنُ‘‘ سے مراد یہ ہے کہ جو اُن کی دنیا میں حالت تھی اور اب قیامت کے دن جو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…مفسِّرِ شہیر، صدرُ الافاضل مفتی محمد نعیم الدین مراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی (متوفی ۱۳۶۷ھ) فرماتے ہیں : ’’اور ایسے لوگ جو زنا کی تہمت میں سزا یاب ہوں اور ان پر حد جاری ہو چکی ہو، مَرْدُوْدُ الشَّہَادَۃ ہو جاتے ہیں ، کبھی ان کی گواہی مقبول نہیں ہوتی۔‘‘ (خزائن العرفان،سورۃ النور،تحت الآیۃ:۴)اوربہارِ شریعت،جلد دوم صَفْحَہ104پر ہے: ’’جس شخص پر حدِّ قذف قائم کی گئی اوس کی گواہی کسی معاملہ میں مقبول نہیں۔ ہاں ! عبادات میں قبول کرلیں گے۔‘‘
2…تفسیر البغوی، النور ،تحت الآیۃ۲۴،ج۳،ص۲۸۴۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع