30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سیِّدُنا امام شافعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی (متوفی۲۰۴ھ) وغیرہ نے ’’بابُ الوقف‘‘ میں ذکر فرمایا ہے یعنی استثنا، وصف اور اس طرح کے دیگر متعلقات کا تعلق نہ صرف ماقبل مذکور تمام اشیاء سے ہوتا ہے بلکہ ان سے مراد بعد میں ذکر ہونے والی اشیا ء بھی ہوتی ہیں۔‘‘ کچھ علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام یہ بھی فرماتے ہیں کہ’’اگر یہ درمیانِ کلام میں واقع ہوں تو ان کا تعلق سب سے ہوتا ہے کیونکہ ماقبل کی طرف نسبت کے اعتبار سے یہ مؤخَّر ہوں گے اور مابعد کی طرف نسبت کے اعتبار سے مقدَّم۔‘‘ پس قیاس تو یہ ہے کہ آیت ِ مبارکہ میں توبہ کرنے والوں سے مراد ماقبل تینوں قسم کے افراد ہوں لیکن اس سے قاذف مراد لینا مشکل ہے کیونکہ جب زنا ثابت نہ کرنے کی وجہ سے اس کے بارے میں یہ حکم پایا گیا کہ اسے کوڑے لگاؤ تو اب توبہ کے ساتھ حد ساقط نہیں ہو سکتی۔ لہٰذا توبہ کا تعلق بقیہ دونوں قسم کے افراد سے ہو گا یعنی حدِّ قذف کی وجہ سے مَرْدُوْدُ الشَّہَادَۃ ٹھہرایا جانے والا اور فاسق۔‘‘
اسی وجہ سے امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے متعلق منقول ہے کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حضرت سیِّدُنا مغیرہ بن شعبہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے گزشتہ واقعہ میں ارشاد فرمایا:’’جس نے اپنے آپ کو جھوٹا قرار دیا اس کی گواہی قبول کی جائے گی۔‘‘ چونکہ شبل اور نافع نے اپنے آپ کو جھوٹا قرار دے دیا تھا لہٰذا آپ ان کی گواہی قبول فرمایا کرتے تھے۔
اسی بنا پر حضرت سیِّدُناابو عمرو عامربن شراحیل شعبی حمیری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی (متوفی ۱۰۳ھ)فرماتے ہیں : ’’توبہ کا تعلق قاذف سے بھی ہے پس جب وہ توبہ کر لے تو اس سے حد ساقط ہو جائے گی۔‘‘
تنبیہ:
جس نے حاکم کے سامنے کسی پر تہمت لگائی تو حاکم پر لازم ہے کہ وہ مقذوف(یعنی جس پر تہمت لگائی گئی اس) کو اس بارے میں آگاہ کرے تا کہ اگر وہ چاہے تو حد کا مطالبہ کر سکے۔ جیسا کہ اگر حاکم کو اس بات کا ثبوت مل جائے کہ فلاں کا فلاں پر قرض ہے لیکن وہ جانتا نہیں تو حاکم پر لازم ہے کہ اسے اس بات سے آگاہ کر ے۔ البتہ! جب کسی شخص پر زنا کی تہمت لگائی جائے تو امام اور اس کے نائب کے لئے ضروری نہیں کہ وہ حقیقت جاننے کے لئے اس شخص کو بلائیں۔
اللہ ربُّ العزَّت ارشاد فرماتا ہے:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع