دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal Jild 2 | جہنم میں لے جانے والے اعمال جلد 2

book_icon
جہنم میں لے جانے والے اعمال جلد 2

رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کے نزدیک یہی حکم ہے۔ جبکہ حضرت سیِّدُنا امامِ اعظم ابو حنیفہ نعمان بن ثابت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ (متوفی۱۵۰ھ) ارشاد فرماتے ہیں : ’’اگر گواہ علیحدہ علیحدہ ہوں تو ان کی گواہی لغو ہو گی اور انہیں حد لگائی جائے گی۔‘‘

ہماری(یعنی شافعی علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کی) دلیل یہ ہے کہ(۱)…گواہوں کو ایک دوسرے سے جدا کرنے سے تہمت ختم ہو سکتی ہے اور حقیقت کا اظہار بھی واضح طور پر ہو سکتا ہے کیونکہ اس طرح یہ احتمال نہیں رہتا کہ گواہ ایک دوسرے سے سن کر گواہی دے دیں گے۔(۲)…یہی وجہ ہے کہ جب قاضی کو گواہوں میں شک ہو جائے تو وہ ان کو جدا جدا کر سکتا ہے۔ (۳)…اس وقت بھی ان کو ایک دوسرے سے الگ کرنا انتہائی ضروری ہے کہ جب وہ سب اکٹھے قاضی یا اس کے نائب کے پاس آئیں تو ایک ایک کر کے ان کے پاس اپنی گواہی قلم بند کروائیں کیونکہ سب کا اکٹھا گواہی دینا مشکل ہے۔

حضرت سیِّدُنا امامِ اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم(متوفی۱۵۰ھ) کی دلیل یہ ہے کہ(۱)…پہلے ایک شخص نے گواہی دی پھر دوسرے نے آکر گواہی دی تو ان میں سے ہر ایک پر یہ بات صادق آتی ہے کہ وہ تہمت کا مرتکب ہو رہا ہے اور گواہی کا نصاب یعنی چار گواہوں کا ہونا نہیں پایا جا رہا۔ لہٰذا آیت ِکریمہ کے حکم کی بنا پر ان سب پر حد لگائی جائے گی اور ان کے شہادت کے لفظ کو ادا کرنے کا بھی کوئی فائدہ نہ ہو گا۔ کیونکہ اگر ایسا نہ کیا جائے تو یہ مسلمانوں کو تہمت لگانے کا ایک ذریعہ بن جائے گا۔

{1}…ایک شخص کے خلاف امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے سامنے 4 افراد یعنی ابو بکرہ، شبل بن معبد، نافع اور نفیع نے زنا کی گواہی دی۔ لیکن ان میں سے چوتھے شخص نے اس طرح گواہی دی کہ ’’میں نے اسے دیکھا کہ یہ اکڑوں بیٹھا ہوا ہے اور عورت کے پاؤں اس کے کندھوں پر ایسے ہیں جیسے گدھے کے کان۔ اس کے علاوہ مجھے نہیں معلوم کہ اس کے پیچھے کیا تھا۔‘‘ توامیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے تینوں کو حد لگائی اور یہ نہ پوچھا کہ کیا تمہارے ساتھ کوئی چوتھا گواہ بھی ہے؟‘‘ (۱) اگر اس کے بعد کسی دوسرے کی گواہی قبول کی جاتی تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ان پر حد لگانے میں توقف کرتے۔

اس واقعہ میں ان لوگوں کا جواب موجود ہے جو کہتے ہیں کہ ’’گواہوں پر کوئی حد نہیں اگرچہ نصاب پورا نہ ہو۔‘‘

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

1…المغنی لابن قدامۃ،کتاب الحدود،مسألۃ۱۵۶۱،فصل واذالم تکمل شہود الزنی، ج۱۲،ص۳۶۷۔


 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن