30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سوال: آیت ِ مبارکہ میں صرف پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانے کا بیان ہے تو مرد اس حکم کے تحت کیسے داخل ہو گئے؟
جواب: (۱)…اس کا ایک جواب یہ ہے کہ الْمُحْصَنٰتِ سے مراد پاک دامن نفوس ہیں۔ لہٰذا یہ لفظ مردوں اور عورتوں دونوں کو شامل ہے اور (۲)…دوسرا جواب یہ ہے کہ یہاں لفظ ِ اَلْمُحْصِنِیْنَ محذوف ہے کیونکہ مرد وعورت دونوں تہمت لگائے جانے کے حکم میں برابر ہیں اور اس بات پر اجماع ہے۔
محصن ہونے کی شرط :
یہاں اِحْصَان سے مراد آزاد ہونا، مسلمان ہونا، عاقل بالغ ہونا، حد کے موجب زنا نیز اپنی بیوی یا لونڈی سے اس کی دبر میں وطی کرنے سے پاک ہونا مراد ہے۔ لہٰذا جو زنا کا مرتکب ہو یا اپنی بیوی کے پچھلے مقام میں وطی کرے تو اس پر زنا کی تہمت لگانے والے پر حد ِ قذف واجب نہیں ، اگرچہ وہ توبہ کر لے اور اس کا حال اچھا ہو جائے کیونکہ جب عزت کی چادر ایک دفعہ تار تار ہو جائے تو پھر اس کے ریشے دوبارہ کبھی نہیں ملتے۔ البتہ!اس پر زنا وغیرہ کی تہمت لگانا کبیرہ گناہ ہے جیسا کہ ظاہر ہے۔اس کی تفصیل نسب کے باب میں آئے گی۔
اور فرمایا:’’ ثُمَّ لَمْ یَاۡتُوۡا بِاَرْبَعَۃِ شُہَدَآءَ…الایۃ‘‘اس فرمان باری تعالیٰ سے معلوم ہوا کہ یہاں پر حد کا سبب تہمت لگانے والے کے کذب وافتری کو ظاہر کرنا ہے۔ لہٰذا جس کی سچائی چار عادل گواہوں سے ثابت ہو جائے اس پر کوئی حد نہیں۔
حضرت سیِّدُنا امامِ اعظم ابو حنیفہ نعمان بن ثابت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ (متوفی۱۵۰ھ)ارشاد فرماتے ہیں : ’’جس پر زنا کی تہمت لگائی گئی اس کے ثبوت کے لئے فاسق گواہ بھی کافی ہیں اور اگر خود اقرار کر لے تو دومرد بھی کافی ہیں۔ یا پھر کسی نے دعوی کیا کہ فلاں نے زنا کیا ہے ۔ تو اس سے قسم لی جائے گی کہ اس نے زنا نہیں کیا۔ پھر تہمت لگانے والے سے بھی قسم لی جائے گی اس نے قسم اٹھا لی تو اس پر حد قذف نہیں۔‘‘
حد ِقذف کی شرائط:
حد اس صورت میں واجب ہو گی کہ تہمت لگانے والا عاقل بالغ ہو، بار بار تہمت لگانے پر بار بار حد نہیں لگائی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع