30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
آیت ِمبارکہ کی مختصر وضاحت
’’اَلَّذِیۡنَ یُظٰہِرُوۡنَ مِنۡکُمۡ مِّنۡ نِّسَآئِہِمۡ‘‘میں مِنۡکُمفرمانے میں حکمت یہ ہے کہ عربوں کو ظِہَارکو اہم نہ سمجھنے کی عادت بنا لینے پر ڈانٹا جائے۔ کیونکہ ظِہَار زمانۂ جاہلیت کی ایسی قسم ہے جو دنیا کی دیگر کسی قوم میں نہیں پائی جاتی تھی۔ اور فرمایا: ’’مَّا ہُنَّ اُمَّہٰتِہِمْ‘‘ یعنی ان کی بیویاں ان کی مائیں نہیں ہوتیں اس کے باجود وہ انہیں ان کے ساتھ تشبیہ دیتے ہیں۔ کیونکہ ظہار کی حقیقت یہ ہے کہ آدمی اپنی بیوی سے کہے: ’’تو مجھ پر میری ماں کی پشت کی طرح ہے۔‘‘ یا اس طرح کا کوئی کلمہ کہے۔ ’’اِنْ اُمَّہٰتُہُمْ اِلَّا الِّٰٓیۡٔۡ وَ لَدْنَہُمْ‘‘ یعنی ان کی مائیں تو وہ ہیں جنہوں نے انہیں جنا یا جو ان کے حکم میں ہیں جیسے دودھ پلانے والی۔ ’’وَ اِنَّہُمْ لَیَقُوۡلُوۡنَ مُنۡکَرًا مِّنَ الْقَوْلِ وَزُوۡرًا‘‘اس سے مراد یہ ہے کہ برا اور جھوٹا قول کہتے ہیں یعنی بہتان اور جھوٹ بکتے ہیں۔ کیونکہ مُنکَر وہ ہوتا ہے جو شرع میں معروف نہ ہو اور زُوْرسے مراد جھوٹ ہے۔’’وَ اِنَّ اللہَ لَعَفُوٌّ غَفُوۡرٌیعنی بے شک اللہ عَزَّوَجَلَّ ضرور معاف کرنے والا اوربخشنے والا ہے۔‘‘ کیونکہ اس نے کفارے کو اس برے قول اور جھوٹ سے نجات کا ذریعہ بنایا ہے۔
اعتراض: ظہارکرنے والے نے اپنی بیوی کو اپنی ماں کی مثل کہا تو اس میں کون سی برائی اور جھوٹ ہے؟
جواب:کسی کا اپنی بیوی کو یہ کہنا دوطرح ہو سکتا ہے یا تو یہ جملہ خبریہ ہو گا یا انشائیہ۔ بہرحال دونوں صورتوں میں حکم ایک ہے یعنی اس کا جھوٹا ہونا واضح ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نے اپنی اس بات کو درحقیقت حرمت کا سبب خود بنایا ہے حالانکہ شریعت نے ایسا کوئی حکم نہیں دیا۔ یہ مخالفت اور قباحت کی انتہا ہے۔ اس سے نتیجہ نکلتا ہے کہ ظِہَار کبیرہ گناہ ہے کیونکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اسے جھوٹ قرار دیا ہے اور جھوٹ کبیرہ گناہ ہے۔ حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا فرمان بھی اس کی موافقت کرتا ہے کہ’’ ظہار کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔‘‘
۞۞۞۞۞۞۞
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع