30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس عظیم نقصان کی وجہ سے شارع عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے قاضی کو اجازت دی ہے کہ ’’جب چار ماہ کے بعد بھی مرد عورت سے جماع نہ کرے تو اس پر ایک طلاق واقع کر دے۔‘‘ اور ہمارے (شافعی)ائمۂ کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کا یہ قول اس کے منا فی نہیں کہ’’مرد پر اپنی بیوی سے ایک دفعہ بھی جماع کرنا واجب نہیں۔‘‘(۱) اس میں انہوں نے طبیعت چاہنے کا اعتبار کیا ہے۔ کیونکہ جب تک قسم نہ اٹھائی گئی ہو تو عورت ہمیشہ شوہر کی قربت کی اُمید رکھتی ہے لیکن جب اس کے برعکس اس سے قربت نہ کرنے کی قسم کھا کر اُسے ناامید کر دیا جائے تو یہ بات اس کے لئے بہت زیادہ نقصان دہ ہوتی ہے۔ لہٰذا اگر عورت کی ایسی کوئی حالت ثابت ہو جائے تو شارع عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اسے توڑنے اور عظیم نقصان کو دور کرنے کے لئے قاضی کو طلاق دینے کا اختیار دیا ہے۔
۞۞۞۞۞۞۞
۷۔باب الظہار
کبیرہ نمبر286: ظہار کا بیان(۲)
اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ارشادِ عالی ہے: اَلَّذِیۡنَ یُظٰہِرُوۡنَ مِنۡکُمۡ مِّنۡ نِّسَآئِہِمۡ مَّا ہُنَّ اُمَّہٰتِہِمْ ؕ اِنْ اُمَّہٰتُہُمْ اِلَّا الِّٰٓیۡٔۡ وَ لَدْنَہُمْ ؕ وَ اِنَّہُمْ لَیَقُوۡلُوۡنَ مُنۡکَرًا مِّنَ الْقَوْلِ وَزُوۡرًا ؕ وَ اِنَّ اللہَ لَعَفُوٌّ غَفُوۡرٌ ﴿۲﴾ (پ۲۸، المجادلۃ:۲)
ترجمۂ کنزالایمان:وہ جوتم میں اپنی بیبیوں کواپنی ماں کی جگہ کہہ بیٹھتے ہیں وہ ان کی مائیں نہیں ،ان کی مائیں تووہی ہیں جن سے وہ پیدا ہیں اور وہ بیشک بری اور نِری جھوٹ بات کہتے ہیں اور بیشک اللہ ضرور معاف کرنیوالااوربخشنے والاہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ1182 صَفحات پر مشتمل کتاب ، ’’بہارِ شریعت‘‘جلد دوم صَفْحَہ95 پر صدر الشریعہ،بدرالطریقہ مفتی محمدامجدعلی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نقل فرماتے ہیں : ایک مرتبہ جماع قضاء ً واجب ہے اور دیانۃً یہ حکم ہے کہ گاہے گاہے(یعنی کبھی کبھی) کرتا رہے اور اس کے لئے کوئی حد مقرر نہیں مگر اتنا تو ہو کہ عورت کی نظرا وروں کی طرف نہ اُٹھے اوراتنی کثرت بھی جائز نہیں کہ عورت کو ضرر(یعنی نقصان) پہنچے۔ اور یہ اس کے جُثّہ (یعنی جسم )اور قوت کے اعتبار سے مختلف ہے۔‘‘
2…دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ1182 صَفحات پر مشتمل کتاب ، ’’بہارِ شریعت‘‘جلد دوم صَفْحَہ205 پر صدر الشریعہ،بدرالطریقہ مفتی محمدامجدعلی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نقل فرماتے ہیں :’’ظہار کے یہ معنے ہیں کہ اپنی زوجہ یا اُس کے کسی جُزوِ شائع یا ایسے جز کو جوکُل سے تعبیر کیا جاتا ہو ایسی عورت سے تشبیہ دینا جو اس پر ہمیشہ کے لئے حرام ہو یا اس کے کسی ایسے عضوسے تشبیہ دینا جس کی طرف دیکھناحرام ہو مثلاً کہا تو مجھ پر میری ماں کی مثل ہے یا تیرا سر یا تیری گردن یا تیرا نصف میری ماں کی پیٹھ کی مثل ہے۔‘‘
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع