دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal Jild 2 | جہنم میں لے جانے والے اعمال جلد 2

book_icon
جہنم میں لے جانے والے اعمال جلد 2

۶۔باب الایلائ(ایلاء کا بیان)(۱)

کبیرہ نمبر285: بیوی سے ایلاء کرنا

(یعنی شوہر کا چار ماہ سے زیادہ اپنی بیوی سے جماع نہ کرنے کی قسم اُٹھانا)

میرا اسے کبیرہ گناہ شمار کرنا بعید نہیں اگرچہ میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا جیسا کہ اس سے پہلے والا گناہ ہے اس کے کبیرہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اس میں بیوی کے لئے بہت بڑا نقصان ہے اس لئے کہ عورت کا شوہر سے چار ماہ تک دور رہنے کے بعد صبر ختم ہو جاتا ہے۔ جیسا کہ اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا حفصہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے اپنے عظیم باپ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی بارگاہ میں یہ بات عرض کی تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے حکم فرمایا:’’کوئی شخص اپنی بیوی سے چار ماہ سے زیادہ عرصے کے لئے غائب نہ ہو۔‘‘ (۲)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

1…دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ1182 صَفحات پر مشتمل کتاببہارِ شریعت،جلد دوم صَفْحَہ183 پر صدرالشریعہ،بدرالطریقہ مفتی محمدامجدعلی اعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نقل فرماتے ہیں : ’’ایلا دو قسم ہے ایک مؤقت یعنی چار مہینے کا، دوسرا مؤبد یعنی چار مہینے کی قید اُس میں نہ ہو بہر حال اگر عورت سے چار مہینے کے اندر جماع کیا تو قسم ٹوٹ گئی اگرچہ مجنون ہو اور کفارہ لازم، جبکہ اللہ تَعَالٰییا اُس کی اُن صفات کی قسم کھائی اور جماع سے پہلے کفارہ دے چکا ہے تو اُس کا اعتبار نہیں بلکہ پھر کفارہ دے۔ اور اگر تعلیق تھی تو جس بات پر تھی وہ ہوجائے گی مثلاً یہ کہا کہ’’اگر اس سے صحبت کروں تو غلام آزاد ہے۔‘‘ اور چار مہینے کے اندر جماع کیا تو غلام آزاد ہو گیا اور قربت نہ کی یہاں تک کہ چار مہینے گزر گئے تو طلاق بائن ہو گئی۔ پھر اگر ایلائے مؤقت تھا یعنی چار ماہ کا تو یمین(قسم) ساقط ہو گئی یعنی اگر اُس عورت سے پھر نکاح کیا تو اُس کا کچھ اثر نہیں۔ اور اگر مؤبد تھا یعنی ہمیشہ کی اُس میں قید تھی مثلاً خدا کی قسم! تجھ سے کبھی قربت نہ کروں گا یا اس میں کچھ قید نہ تھی مثلاًخدا کی قسم! تجھ سے قربت نہ کروں گا تو اِن صورتوں میں ایک بائن طلاق پڑ گئی، پھر بھی قسم بدستور باقی ہے یعنی اگر اُس عورت سے پھر نکاح کیا تو پھر ایلا بدستور آ گیا، اگر وقتِ نکاح سے چار ماہ کے اندر جماع کر لیا تو قسم کا کفارہ دے اور تعلیق بھی تو جزا واقع ہو جائے گی۔ اور اگر چار مہینے گزر لئے اور قربت نہ کی تو ایک طلاقِ بائن واقع ہو گئی، مگر یمین بدستور باقی ہے۔ سہ بارہ(یعنی تیسری مرتبہ) نکاح کیا تو پھر ایلا آ گیا، اب بھی جماع نہ کرے تو چار ماہ گزرنے پر تیسری طلاق پڑ جائے گی اور اب بے حلالہ نکاح نہیں کر سکتا، اگر حلالہ کے بعد پھر نکاح کیا تو اب ایلا نہیں ، یعنی چار مہینے بغیر قربت گزرنے پر طلاق نہ ہو گی مگر قسم باقی ہے، اگر جماع کرے گا کفارہ واجب ہو گا۔ اور اگر پہلی یا دوسری طلاق کے بعد عورت نے کسی اور سے نکاح کیا اُس کے بعد پھر اس سے نکاح کیا تو مستقل طور پر اب سے تین طلاق کا مالک ہو گا مگر ایلا رہے گا، یعنی قربت نہ کرنے پر طلاق ہو جائے گی۔ پھر نکاح کیا پھر وہی حکم ہے پھر ایک یا دو طلاق کے بعد کسی سے نکاح کیا پھر اس سے نکاح کیا پھر وہی حکم ہے یعنی جب تک تین طلاق کے بعد دوسرے شوہر سے نکاح نہ کرے ایلا بدستور باقی رہے گا۔‘‘

2السنن الکبری للبیھقی، کتاب السیر ،باب الامام لا یجمر بالغزَّی ،الحدیث:۱۷۸۵۰،ج۹،ص۵۱۔


 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن