30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۵۔ باب الرجعۃ
کبیرہ نمبر284: رجوع سے قبل حرام جانتے ہوئے طلاقِ رجعی والی عورت سے جماع کرنا
اسے کبیرہ گناہ شمار کرنا بعید نہیں جبکہ یہ ایسے شخص سے صادر ہو جو اس کی حرمت کا اعتقاد رکھتا ہو، اگرچہ اس میں حد واجب نہیں کیونکہ حد کا واجب نہ ہونا شبہ کی وجہ سے ہے،اور یہ اس لئے کہ حدودکسی فساد کا ازالہ کرنے کے لئے ہوتی ہیں اورجہاں تک ممکن ہو حد ساقط ہوجاتی ہے اورحد کا ساقط ہونا حرام ہونے کے حکم میں کمی کا تقاضا بھی نہیں کرتا، کیا آپ دیکھتے نہیں کہ مشترکہ لونڈی سے جماع کرنا کبیرہ گناہ ہے جیسا کہ ظاہر ہے۔ کبیرہ گناہ قرار دینے میں مالک کے شبہ کی طرف نہ دیکھا جائے گا جس میں اس کے لئے حد کا ساقط ہونا پایا جاتا ہے۔
اعتراض:اگر آپ کہیں کہ رجعی طلاق والی عورت سے جماع کے جائز ہونے میں علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کا اختلاف ہے، تو اس کے باوجود یہ کبیرہ گناہ کیوں ہے؟
جواب:یہ انوکھی بات نہیں کیونکہ جس نبیذ(۱) سے نشہ نہیں آتا اس کی حرمت میں علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کا اختلاف ہے۔ اس کے باوجود ہمارے (یعنی شوافع کے )نزدیک اس کا پینا کبیرہ گناہ ہے۔
۞۞۞۞۞۞۞
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…وہ مشروب جس میں کھجوریں ڈالی جائیں جس سے پانی میٹھا ہوجائے مگر اعضاء کو سست کرنے والااور نشہ آور نہ ہو۔ وگرنہ اس کا پینا حرام ہے۔(الفتاوی الخانیۃ،ج۱،ص ۹)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع