30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
گزشتہ بحث بھی اس کو شامل ہے لیکن میں نے تفصیل بیان کرنے کے لئے اسے علیحدہ طور پر ذکر کیا اور یہ بات گزر چکی ہے کہ نشوز میں شدید وعید ہے جیسے فرشتوں کا عورت پر لعنت بھیجنا جب وہ بلا عذرِ شرعی شوہر کو خود سے روکے۔ حضرت سیِّدُنا علامہ جلال بلقینی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی ارشاد فرماتے ہیں :میرے والدماجدشیخ الاسلام (یعنی حضرت سیِّدُنا سراج بلقینی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی) فرشتوں کے لعنت بھیجنے والی حدیث ِ پاک سے استدلال کرتے ہیں کہ ’’کسی معین گناہگار پر لعنت کرنا جائز ہے۔‘‘ اور میں نے ان کے ساتھ مل کراس بارے میں غوروفکر کیااس احتمال کے سبب کہ فرشتوں کا عورت کولعنت کرنا خاص نہ ہو بلکہ عام ہو ۔یعنی یوں کہاجاسکتاہے کہ ’’ہر اس عورت پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کی لعنت ہے جو اپنے شوہر کے بستر کو چھوڑ کر رات گزارے۔‘‘
۞۞۞۞۞۞۞
[۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔حدیثِ قدسی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔]
دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ54صفحات پر مشتمل کتاب ’’نصیحتوں کے مَدَنی پھول بوسیلۂ احادیثِ رسول‘‘صفحہ 51تا52پرہے:اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:
اے ابن آدم!جس نے ہنس ہنس کر گناہ کئے میں اُسے رُلا رُلا کر جہنَّم میں ڈالوں گا اور جو میرے خوف سے روتا رہا میں اسے خوش کر کے جنّت میں داخل کروں گا۔
اے ابن آدم! کتنے غنی ایسے ہیں جو روزِ حساب محتاجی ومفلسی کی تمنا کریں گے؟
۞۔۔۔۔۔ کتنے بے رحم ایسے ہیں جنہیں موت ذلیل ورسوا کر دے گی؟
۞۔۔۔۔۔کتنی شیریں چیزیں ایسی ہیں جنہیں موت تلخ کردے گی؟
۞۔۔۔۔۔نعمتوں پر کتنی خوشیاں ایسی ہیں کہ جنہیں موت گدلا کر دے گی؟
۞۔۔۔۔۔کتنی خوشیاں ایسی ہیں جو اپنے بعد طویل غم لائیں گی؟
(مجموعۃ رسائل الامام الغزالی، المواعظ فی الاحادیث القدسیۃ،ص۵۷۷)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع