30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کہ اس کا بھائی ایک شیر پر لکڑیوں کا گٹھا اٹھائے آ رہا ہے۔ جب وہ قریب پہنچا تو اس نے اپنی ملاقات کے لئے آنے والے بھائی کو سلام کیا اور خوش آمدید کہا، پھر شیرکی پیٹھ سے لکڑیوں کا گٹھا اُتار کر اسے کہا :’’جاؤ! اللہ عَزَّوَجَلَّ تم میں برکت دے۔‘‘ اس کے بعد وہ اپنے بھائی کو گھر لے گیا، اس کی بیوی ابھی بھی اسے برا بھلا کہہ رہی تھی لیکن اس نے کوئی جواب نہ دیا۔ بہرحال اس نے اپنے بھائی کو کھانا کھلا کر رخصت کر دیا، وہ شخص بیوی کی بدسلوکی پراپنے بھائی کے صبر کرنے سے بہت متعجب ہو کر واپس لوٹا۔
آئندہ سال وہ شخص دوبارہ آیا اور دروازہ کھٹکھٹایا تو اندر سے ایک عورت نے پوچھا:’’کون ہے؟‘‘ اس نے بتایا: ’’تیرے شوہر کا بھائی اس کی ملاقات کے لئے آیا ہے۔‘‘ اس عورت نے اسے خوش آمدید کہا اور دونوں بھائیوں کی بہت زیادہ تعریف کی اور اسے کہا: اپنے بھائی کا انتظار کرو۔ جب اس کا بھائی آیا تو اس نے دیکھاکہ لکڑیاں اس کی پیٹھ پر تھیں ، اس نے گھر کے اندر لے جا کر اسے کھانا کھلایا جبکہ اس کی بیوی دونوں کی بہت زیادہ تعریف کر رہی تھی۔ جب اس شخص نے اپنے بھائی سے جدا ہونے کا ارادہ کیا تو اس سے سابقہ بیوی اور اِس بیوی کے درمیان فرق کے متعلق پوچھا اور یہ بھی پوچھا کہ ’’ احسان فراموش اور بدزبان بیوی کے زمانے میں شیر اُس کی لکڑیاں اُٹھاتا تھا جبکہ اِس ایمان دار، تعریف کرنے والی نرم خو بیوی کے دور میں وہ اپنی پیٹھ پر لکڑیاں اٹھا رہا ہے، آخر اس کا کیا سبب ہے؟‘‘ تو اس نے بتایا:’’اے میرے بھائی! وہ برے اخلاق والی بیوی فوت ہو گئی، میں اس کی نافرمانی اور تکالیف پر صبر کیا کرتا تھا لہٰذا اللہ عَزَّوَجَلَّ نے میرے لئے شیر کو مسخَّر کر دیا جو تم نے دیکھا کہ میری لکڑیاں اُٹھاتا تھا۔ پھر میں نے اس نیک عورت سے شادی کی، اب میں اس کے ساتھ سکون میں ہوں لیکن مجھ سے شیر جدا ہو گیا ہے۔ لہٰذا اس نیک عورت کے ساتھ راحت حاصل کرنے کی وجہ سے میں اپنی پیٹھ پر لکڑیاں اٹھانے پر مجبور ہو گیا ہوں۔‘‘
تنبیہ:
شوہر کی نافرمانی کو کبیرہ گناہوں میں شمار کیا گیا ہے جس کی علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کے ایک گروہ نے تصریح کی ہے۔ البتہ! شیخین(امام نووی وامام رافعی)رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَا نے صرف یہ نہیں فرمایا کہ’’بغیر کسی سبب کے عورت کا خود سے شوہر کو روکنا خصوصی طور پر کبیرہ گناہ ہے۔‘‘ بلکہ انہوں نے نافرمانی کی تمام صورتوں پر تنبیہ کی ہے۔ میری
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع