30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مختصریہ کہ مارنے میں نرمی کے پہلو کو مدِّنظر رکھا جائے۔ اسی وجہ سے حضرت سیِّدُنا امام شافعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی (متوفی۲۰۴ھ) نے ارشاد فرمایا: ’’بالکل نہ مارنا افضل ہے۔‘‘
سوال:کیا یہ تینوں افعال(یعنی نصیحت کرنا، بستر سے جدا کرنا اور مارنا) بالترتیب ہیں یانہیں ؟
جواب:اس میں علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کا اختلاف ہے، امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہٗ الْکَرِیْمفرماتے ہیں :’’ پہلے نافرمان عورت کو زبان سے نصیحت کرے، اگر نہ مانے تو اسے بستر سے جدا کر دے اور اگر پھر بھی نہ مانے تو مار پیٹ سے کام لے اور اگر مارنے سے بھی نصیحت حاصل نہ کرے تو کوئی ثالث بھیجے۔‘‘
جبکہ دیگر ائمۂ کرام اور فقہائے عظام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کا کہنا ہے کہ’’نافرمانی کے خوف کے وقت اس ترتیب کا لحاظ رکھا جائے گا اور جب نافرمانی ثابت ہو جائے تو تمام کو جمع کرنے میں کوئی حرج نہیں۔‘‘
لَا تَبْغُوْا سے مراد یہ ہے کہ’’ان پر زبردستی کی کوئی راہ تلاش نہ کرو، یعنی انہیں اپنی محبت کا پابند نہ کرو کیونکہ دل ان کے ہاتھوں میں نہیں۔‘‘
حضرت سیِّدُنا ابن عیینہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ’’زیادہ موزوں اور مناسب یہی ہے کہ اس کی تفسیر عام ہو یعنی ان سے ایسے کام کا مطالبہ نہ کرو جو ان پر شرعی طور پر لازم نہیں بلکہ انہیں ان کی اپنی مرضی پر چھوڑ دو کیونکہ انہوں نے بطورِ احسان طبعی طور پر اپنے آپ کو بہت سے ایسے حقوق اور خدمت کا پابند کیا ہوا ہے جو ان پر لازم نہیں۔‘‘
مذکورہ آیت ِ مبارکہ کا اختتام ان دو اسمائے مبارکہ’’عَلِیًّا کَبِیۡرًا‘‘پر ہو رہا ہے جو کہ موضوع کے انتہائی مناسب ہیں کیونکہ ان دونوں کا معنی یہ ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ اپنی برتری اور کبریائی کے باوجود اپنے بندوں کو ایسے کام کا پابند نہیں کرتا جس کی وہ طاقت نہیں رکھتے اوروہ نافرمان کا مؤاخذہ نہیں کرتاجبکہ وہ توبہ کر لے پس تم بھی اس بات کے زیادہ حق دار ہو کہ جس کی وہ طاقت نہیں رکھتیں انہیں اس کام کا پابند نہ کرو اور ان کی نافرمانی پر ان کی معافی قبول کر لو۔
یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر وہ تمہارے ظلم کو روکنے سے عاجز ہوں تو(جان لو کہ) اللہ عَزَّوَجَلَّ تو بلند شان والا، کبیر اور قادر ہے جو ان کی طرف سے تم سے بدلہ لے سکتا ہے اور صحیح احادیث ِ مبارکہ میں نافرمانی کی بعض صورتوں پر شدید وعید گزر چکی ہے تو نافرمانی کی باقی صورتوں کو انہی پر قیاس کیا جائے گا۔ چنانچہ، انہیں احادیثِ مبارکہ میں سے صحیحین کی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع