30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
طے شدہ ہے کیونکہ فِی الْمَضَاجِعِ، ہَجَرَ کے لئے ظرف نہیں بلکہ اس کا سبب ہے۔ حالانکہ معاملہ ایسا نہیں بلکہ یہاں فِیظرفیت کا ہی صحیح ہے اور ہَجَرَ اس میں واقع ہے اور ایک قول یہ ہے کہ یہ نُشُوْزَہُنَّ کے متعلق ہے لیکن یہ معنوی اعتبار سے صحیح نہیں کیونکہ مَضْجَع میں نافرمانی پر نُشُوْز کو مقصور کرنے کا وَہم پایا جا رہا ہے حالانکہ ایسا نہیں جیسا کہ گزر چکا ہے اور نہ ہی یہ نئی بات ہے کیونکہ اس میں مصدر اور اس کے معمول کے درمیان اجنبی چیز کا فاصلہ ہے، جبکہ ایک قول یہ ہے کہ نُشُوْزَہُنَّ کے بعد فعل محذوف ہے یعنی وَالّٰتِیْ تَخَافُوْنَ نُشُوْزَہُنَّ وَنَشَزْنَ۔ بے شک اس سے وہی شخص راہِ فرار اختیار کرتا ہے جو محض سمجھانے بجھانے اور ڈرانے دھمکانے جیسے اقدامات پر توقف نہیں کرتا جبکہ ہمارا مذہب اس کے خلاف ہے اس لئے کہ خوف یہاں پر یقین کے معنی میں ہے اور حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے بھی اسی طرح منقول ہے اور ایک قول یہ بھی ہے کہ اس معاملے میں غلبۂ ظن ہی کافی ہے اور اِضْرِبُوْھُنَّ سے مراد ایسی مار پیٹ ہے جو اذیت ناک نہ ہو اور نہ ہی اس سے جسم پر نشانات پڑیں۔ حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں : ’’جیسے گھونسا(یعنی مُکا)۔‘‘اور حضرت سیِّدُنا عطاء رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ ’’مسواک سے مارا جائے۔‘‘
اور حدیث ِ پاک میں چہرے پر مارنے سے منع فرمایا گیا ہے اورفرمایا کہ اسے نہ چھوڑو مگر گھر میں۔(۱)
عورت کو کتنی ضربیں لگائی جائیں :
حضرت سیِّدُنا امام محمد بن ادریس شافعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی (متوفی۲۰۴ھ) فرماتے ہیں :’’40سے کم مرتبہ مارا جائے گا کیونکہ یہ ایک آزاد انسان کی کم از کم حد ہے۔‘‘ اور دوسرے علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام فرماتے ہیں : ’’20 سے کم مرتبہ مارا جائے گا کیونکہ یہ ایک غلام کی پوری حد ہے۔‘‘ بہرحال اسے بدن پر مختلف جگہوں پر مارا جائے گا اور لگاتارایک ہی جگہ نہ مارا جائے تاکہ اسے زیادہ تکلیف نہ ہو اور اس کے چہرے پر نہ مارے نیز اتنا نہ مارے کہ وہ مر جائے۔ بعض علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام ارشاد فرماتے ہیں : ’’لپیٹے ہوئے رومال یا اپنے ہاتھ سے مارے کوڑے اور ڈنڈے سے نہ مارے۔‘‘ گویا قائل نے یہ قول حضرت سیِّدُنا عطاء رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے اخذ کیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…سنن ابی داود، کتاب النکاح ،باب فی حق المراۃ علی زوجھا ،الحدیث:۲۱۴۲،ص۱۳۸۰۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع