30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سے گفتگو میں سختی سے پیش آؤ اور انہیں جماع وغیرہ کے لئے بے قرار کر دو۔
ایک قول یہ بھی ہے کہ ’’اس سے مراد یہ ہے کہ انہیں گھروں میں اونٹ کی رسی سے سخت باندھ دو۔‘‘ مگر یہ قول بعید از عقل اور شاذ ہے اگرچہ اسے حضرت سیِّدُنا امام ابوجعفر محمد بنطَبَرِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی ( متوفی ۶۹۴ھ)نے اختیار کیا ہے۔ اسی وجہ سے حضرت سیِّدُنا امام ابوبکر ابن عربی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی ( متوفی۵۴۳ھ) نے ارشاد فرمایا:کتاب وسنت کو جاننے والے عالم کی یہ کتنی بڑی غلطی ہے۔ لیکن اسے اس تاویل پر ابھارنے والی ایک غریب روایت ہے جو حضرت سیِّدُنا زبیر بن عوام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی زوجۂ محترمہ حضرت سیِّدَتُنا اسماء بنت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے۔
حضرت سیِّدُنا امام ابوعبداللہ محمد بن احمد انصاری قرطبیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی(متوفی۶۷۱ھ) فرماتے ہیں : ’’علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کے نزدیک اس علیحدگی کی مدت ایک مہینہ ہے جیسا کہ سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا عمل ہے ۔ جب آپصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا حفصہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو اپنی اُمِّ وَلَد حضرت سیِّدَتُنا ماریہ قبطیہ کو اپنے اوپر حرام کرنے کا راز بتا یا لیکن انہوں نے یہ راز اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو بتا دیا اس پر یہ آیتِ مبارکہ نازل ہوئی: ’’یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَاۤ اَحَلَّ اللہُ لَکَۚ(پ۲۸، التحریم:۱)ترجمۂ کنز الایمان: اے غیب بتانے والے(نبی)! تم اپنے اوپر کیوں حرام کئے لیتے ہووہ چیزجو اللہ نے تمہارے لئے حلال کی۔‘‘ (۱)
گویا ’’اَلْعُلَمَاء‘‘ سے حضرت سیِّدُنا امام ابوعبداللہ محمد بن احمد قرطبیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی(متوفی۶۷۱ھ)کی مراد اُن کے ہم مذہب علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام ہیں۔ البتہ! شافعی علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کے نزدیک بیوی کو بستر سے علیحدہ کرنے کی انتہائی مدت کچھ نہیں کیونکہ یہ فعل تو عورت کی اصلاح کے لئے ہے، پس اگر وہ اصلاح یافتہ نہ ہو تو اسے چھوڑے رکھے اگرچہ کئی سال گزر جائیں اور اگر وہ اصلاح پا جائے تو اسے چھوڑے رکھنے کی کوئی وجہ نہیں جیسا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اس کے بعد ارشاد فرمایا: ’’فَاِنْ اَطَعْنَکُمْ فَلَا تَبْغُوۡا عَلَیۡہِنَّ سَبِیۡلًا ؕ‘‘
’’فِی الْمَضَاجِعِ‘‘ میں فِی یا تو ظرفیت کا ہے جواہۡجُرُوۡہُنَّ کے متعلق ہے یعنی ان کے ساتھ سونا ترک کر دو یا فِیسببیت کا ہے یعنی ان کی نافرمانی کی وجہ سے انہیں اپنے بستر سے جدا کر دو۔ ایک قول میں یہ بھی ہے کہ یہی بعد والا معنی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…الجامع لاحکام القرآن للقرطبی، النساء،تحت الآیۃ۳۴،ج۳، الجزء الخامس،ص۱۲۰۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع