30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وَلَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللہُ بِہٖ بَعْضَکُمْ عَلٰی بَعْضٍؕ (پ۵، النسآء:۳۲)
ترجمۂ کنزالایمان:اوراس کی آرزونہ کرو جس سے اللہ نے تم میں ایک کودوسرے پربڑائی دی۔
مردوں کی افضلیت کا سبب:
اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اس آیتِ کریمہ میں واضح فرمایا ہے کہ اس نے میراث میں مردوں کو عورتوں پر اس وجہ سے فضیلت دی ہے کیونکہ وہ ان پر افسر ہیں ، اگرچہ جنسی لذت حاصل کرنے میں دونوں شریک ہیں لیکن اللہ عَزَّوَجَلَّ نے مردوں کو حکم دیا کہ وہ عورتوں کی اصلاح کریں ، انہیں ادب سکھائیں ، ان کی حفاظت کا اہتمام کریں اور انہیں حق مہر ادا کریں کیونکہ قَوَّام کا صیغہ قَیّم سے زیادہ بلیغ ہے اور قَوَّام سے مراد ایسا منتظم و کار پرداز ہے جو مصالح، تدبیر وتادیب، حفاظت کا اہتمام کرنے اور آفات سے بچانے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہو۔
پہلی آیت ِ مبارکہ کاشانِ نزول:
{1}…یہ آیت ِکریمہ حضرت سیِّدُنا اسعد بن ربیعرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے متعلق نازل ہوئی جو انصا رکے نقیبوں میں سے ایک تھے ، اُن کی بیوی نے اُن کی نافرمانی کی تو انہوں نے اُسے تھپڑ رسید کر دیا، اس کا باپ اسے لے کرتاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نَبوتصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہِ بیکس پناہ میں حاضر ہو گیا اور عرض کی: ’’میری بیٹی اس کے نکاح میں گئی اور اس نے اسے تھپڑ رسید کر دیاجس کا نشان اس کے چہرے پر موجود ہے۔‘‘ تو حضورصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’اس سے بدلہ لے لو۔‘‘ پھر فرمایا: ’’(تھوڑی دیر) صبر کرو یہاں تک کہ میں بھی انتظار کرتا ہوں۔‘‘ پھر یہ آیت ِ مبارکہ نازل ہوئی تو آپصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’ہم نے ایک کام کا ارادہ کیا اور اللہ عَزَّوَجَلَّ نے بھی ایک کام کا ارادہ فرمایا لیکن جو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ارادہ فرمایا وہی بہتر ہے۔‘‘ (۱)
پس معلوم ہوا کہ اس آیت ِ مبارکہ میں دلیل ہے کہ آدمی اپنی بیوی کو ادب سکھا سکتا ہے لیکن اسے بیوی کے ساتھ برا سلوک نہیں کرنا چاہئے جیسا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے فرمانِ عالیشان’’ اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوۡنَ عَلَی النِّسَآءِ‘‘ سے یہ بات سمجھی جا سکتی ہے۔
اور اس فرمانِ خداوندی ’’وَبِمَاۤ اَنۡفَقُوۡا مِنْ اَمْوٰلِہِمْؕ‘‘ میں اس بات پر دلیل ہے کہ مرد نے تنگ دست ہونے کی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…تفسیر البغوی،النساء،تحت الآیۃ۳۴،ج۱،ص۳۳۵۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع