30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سے نکل جاتا ہے یہاں تک کہ واپس لوٹ آئے۔(۱)(۵)…وہ مر گیا تو جہنم میں داخل ہو گا ۔ (۲)وغیرہ وغیرہ۔
صَاحِبُ الْعُدَّۃکا یہ قول کہ’’تین دن سے زیادہ کسی مسلمان سے قطع تعلقی کرنا صغیرہ گناہ ہے۔‘‘ یہ بہت بعید ہے اگرچہ شیخین(یعنی امام رافعی وامام نووی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَا)نے اس پر خاموشی اختیار فرمائی، پھر میں نے بعض علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کو دیکھا کہ انہوں نے یقینی طور پر مذکورہ ترکِ تعلق کو کبیرہ گناہ قرار دیا اور صَاحِبُ الْعُدَّۃ اور امام زرکشی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَا کی بات پرتوجہ نہ دی بلکہ ارشاد فرمایا کہ ’’ مسلمان سے تین دن سے زیادہ قطع تعلقی کو صغیرہ گناہ قرار دینا محلِ نظر ہے اور زیادہ بہتر یہی ہے کہ یہ کبیرہ گناہ ہے کیونکہ اس میں قطع تعلقی، تکلیف اور فساد پایا جاتا ہے۔ہاں یہ کہا جائے کہ بار بار کرنے سے یہ کبیرہ ہو جائے گا۔‘‘
علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کا مذکورہ قول کہ ’’ہاں یہ کہا جائے کہ بار بار کرنے سے یہ کبیرہ ہو جائے گا۔‘‘ محلِ نظر ہے اور اگر ہم اسے تسلیم بھی کر لیں تو پھر بھی یہ ہمارے مؤقف کی نفی نہیں کرتا کیونکہ مقصود یہ ہے کہ کیا اس کے کبیرہ ہونے کا معنی وہ ہے جو مذکور ہوا یاتین دن کی مدت میں اس پر اصرار کرنا ہے۔ بہرحال پہلی توجیہ ہی زیادہ بہتر ہے کیونکہ اصل حرمت کے لئے تین دن کی قید لگائی گئی ہے کیونکہ تین دن گزرنے کے بعد بگاڑ پیدا کرنا اور تعلقات توڑنا ثابت ہو جاتا ہے بخلاف پہلی صورت] اس میں قطع تعلقی، تکلیف اور فساد پایا جاتا ہے[ کے، پس یہاں اصرار کا اعتبار نہیں۔
قطع تعلقی کی حرمت سے کچھ مسائل خارج کئے گئے ہیں جن کا ائمۂ کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام نے ذکر کیا ہے جیسا کہ میں نے عنوان میں اس کی طرف اشارہ کیا ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ’’اگر تعلقات توڑنا ہاجر(یعنی قطع تعلقی کرنے والا) اور مہجور(یعنی جس سے قطع تعلقی کی جائے) کی دینی اصلاح کا سبب ہو تو جائز ہے ورنہ نہیں۔‘‘
۞۞۞۞۞۞۞
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1… البحرالزخارالمعروف بمسند البزار،مسند عبد اللہ بن مسعود، الحدیث: ۱۷۷۳، ج۵،ص۱۷۶۔
2…سنن ابی
داود ، کتاب الأدب ،باب فی ھجرۃ الرجل اخاہ ،الحدیث:۴۹۱۴،ص۱۵۸۳۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع