30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
{25}…حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ سرکارِمدینہ ، راحت قلب وسینہ ، فیض گنجینہ ، صاحبِ معطرپسینہ،باعث ِ نزول سکینہصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ مغفرت نشان ہے: ’’3باتیں ایسی ہیں جس شخص میں ان میں سے ایک بھی نہ ہوتواللہ عَزَّوَجَلَّاُس کی مغفرت فرمادے گا: (۱)…وہ اس حال میں مرا کہ اس نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا (۲)… نہ جادوکاعمل کیااور (۳)…نہ ہی اپنے مسلمان بھائی سے کینہ رکھا۔‘‘ (۱)
{26}…اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے مروی ہے کہ رسولِ اَکرم،شاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ایک رات قیام فرمایا اور نماز پڑھی، آپصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس قدر طویل سجدہ کیا کہ مجھے گمان ہوا کہ آپصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم وصال فرما چکے ہیں۔ جب میں نے یہ دیکھا تو اٹھ کر آپ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے انگوٹھے کو حرکت دی، جب آپصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حرکت کی تو میں (واپس اپنی جگہ) لوٹ آئی، جب آپصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے سجدے سے سر اٹھایا اور نماز سے فارغ ہوئے تو استفسار فرمایا: ’’اے عائشہ ! یا یہ ارشاد فرمایا:’’اے حمیراء ! کیا تیرا یہ خیال ہے کہ اللہ کا رسول تیرے ساتھ ناانصافی کرے گا؟‘‘ (یعنی تیرا حق پورا نہیں کریں گے) تو میں نے عرض کی: ’’نہیں ،اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!بلکہ آپصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے طویل سجدے کی وجہ سے میں نے گمان کیا کہ آپصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی روح قبض ہو چکی ہے۔‘‘ پھر آپصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے استفسار فرمایا:’’کیا تم جانتی ہو کہ یہ کون سی رات ہے؟‘‘میں نے عرض کی:’’اللہ عَزَّوَجَلَّاور اس کا رسول صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہی بہتر جانتے ہیں۔‘‘ تو ارشاد فرمایا:’’یہ شعبان کی پندرہویں رات ہے، بے شک اللہ عَزَّوَجَلَّ پندرہ شعبان کی رات اپنے بندوں پر رحمت کی تجلِّی فرماتا ہے، پس استغفار کرنے والوں کو معاف فرما دیتا ہے، رحم طلب کرنے والوں پر رحم فرماتا ہے اور کینہ پروروں کو ان کی حالت پر چھوڑ دیتاہے۔‘‘ (۲)
{27}… حضورنبی ٔرحمت، شفیعِ اُمتصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے: ’’تین شخص ایسے ہیں جن
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…المعجم الکبیر، الحدیث:۱۳۰۰۴،ج۱۲،ص۱۸۸۔
2…شعب
الایمان للبیھقی،باب فی الصیام، ماجاء فی لیلۃ النصف من شعبان، الحدیث:۳۸۳۵،ج۳،ص۳۸۲۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع