30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
خاطر) اپنا لباس مبارک اُتارا، ابھی آپ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمٹھیک طرح سے بیٹھنے بھی نہ پائے تھے کہ اُٹھ کھڑے ہوئے اور لباسِ مبارک زیب ِ تن کر لیا(اور تشریف لے گئے) ۔ مجھے شدید غیرت آئی اور میں نے گمان کیا کہ آپصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کسی دوسری زوجۂ محترمہ کے پاس تشریف لے جارہے ہیں ، میں بھی آپصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پیچھے نکل پڑی اور آپصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو بقیعِ غرقد میں پایا کہ آپصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مومن مردوں ، عورتوں اورشہد ا کے لئے بخشش طلب کر رہے ہیں۔ میں نے عرض کی: ’’میرے ماں باپ آپ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر قربان! آپصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنے رب کے کام میں مصروف ہیں جبکہ میں دنیا کی حاجت میں ہوں۔ میں واپس پلٹ کر (جلدی جلدی ) اپنے حجرہ میں آ گئی اور(اسی وجہ سے)میرا سانس پھول رہا تھا۔‘‘
میرے پیچھے حُسنِ اَخلاق کے پیکر، مَحبوبِ رَبِّ اَکبرصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بھی تشریف لے آئے اور مجھ سے استفسار فرمایا: ’’اے عائشہ! سانس کیوں پھولا ہوا ہے؟‘‘ میں نے عرض کی: ’’میرے ماں باپ آپصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر قربان! آپصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میرے پاس تشریف لائے، پھر لباسِ مبارک اتار کر بیٹھے بھی نہیں کہ دوبارہ زیبِ تن فرما کر چل دیئے، مجھے سخت غیرت آئی میں نے گمان کیا کہ آپصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میری کسی ساتھ والی (یعنی کسی دوسری زوجۂ محترمہ) کے پاس تشریف لے گئے ہیں یہاں تک کہ میں نے آپصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو بقیعِ غرقد میں دعا و استغفار کرتے ہوئے دیکھا۔‘‘
پھر خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن،رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْنصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: اے عائشہ ! کیا تم اس بات سے ڈرتی ہو کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کا رسول صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تم سے ناانصافی کریں گے؟ میرے پاس حضرت جبریلعَلَیْہِ السَّلَام آئے اور عرض کی : ’’یہ شعبان کی پندرھویں رات ہے، اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! اس میں قبیلۂ بنی کلب کی بکریوں کے بالوں کی تعدادکے برابر لوگوں کو جہنم سے آزاد کیا جاتا ہے، اللہ عَزَّوَجَلَّ اس رات میں مشرک، باہم دشمنی رکھنے والے، قطع تعلقی کرنے والے، تکبر سے تہبند کو لٹکانے والے، والدین کے نافرمان اور عادی شرابی کی طرف نظرِ رحمت نہیں فرماتا۔‘‘
آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا ارشاد فرماتی ہیں :پھر آپصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنا لباس مبارک اتارا اور مجھ سے ارشاد فرمایا: ’’اے عائشہ ! کیا مجھے اس رات قیام (یعنی عبادت و ریاضت) کی اجازت دیتی ہو؟‘‘ میں نے عرض کی :
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع