30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
{17}… سرکارِ مکۂ مکرمہ، سردارِ مدینۂ منورہ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے: ’’ہر پیر اور جمعرات کے دن جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور اللہ عَزَّوَجَلَّ مشرک کے علاوہ ہر شخص کی مغفرت فرما دیتاہے مگراسے نہیں بخشتا جس کی اپنے (مسلمان)بھائی سے دشمنی ہو، پس(فرشتوں کو) کہا جاتا ہے: ان دونوں کو چھوڑ دو یہاں تک کہ یہ صلح کر لیں ،ان دونوں کو چھوڑ دو یہاں تک کہ یہ صلح کر لیں ، ان دو نوں کو چھوڑ دو یہاں تک کہ یہ صلح کر لیں۔‘‘ (۱)
{18}…دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے: ’’ہر پیر اور جمعرا ت کے دن زمین والوں کے رجسٹر آسمان والوں کے رجسٹروں میں منتقل کر دیئے جاتے ہیں ، پس مشرک کے علاوہ ہر مسلمان کو بخش دیا جاتاہے سوائے اس شخص کے جس کی اپنے (مسلمان) بھائی سے دشمنی ہو۔‘‘ (۲)
{19}…سیِّدُالْمُبَلِّغِیْن،رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْنصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے: ’’ہر پیر اورجمعرات کے دن (بندوں کے) اعمال (بارگاہِ الٰہی ) میں پیش کئے جاتے ہیں ، پس جو گناہ سے معافی طلب کرتاہے اسے معاف کردیا جاتاہے اور جو توبہ کرتا ہے اس کی توبہ قبول کرلی جاتی ہے اور کینہ رکھنے والوں کو ان کے کینہ پر چھوڑدیا جاتاہے یہاں تک کہ وہ توبہ کر لیں۔‘‘ (۳)
{20}…شَفِیْعُ الْمُذْنِبِیْن،اَنِیْسُ الْغَرِیْبِیْنصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ ذیشان ہے: ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ پندرہ شعبان کی رات رحمت کی تجلی فرماتاہے اور مشرک اورکینہ پرور کے علاوہ اپنی تمام مخلوق کو بخش دیتا ہے۔‘‘ (۴)
اُمَّت ِ محمدی پر رحمت ِ خداوندی:
{21}…اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا ارشاد فرماتی ہیں : اللہ عَزَّوَجَلَّ کے مَحبوب، دانائے غُیوبصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میرے پاس تشریف لائے، آپ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے(آرام کی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…صحیح مسلم،کتاب البر والصلۃ والأدب، باب النھی عن الشحنائ، الحدیث:۶۵۴۴،ص۱۱۲۷۔
2… المعجم الاوسط، الحدیث:۹۲۷۸،ج۶،ص۴۲۴۔
3…المعجم الاوسط ،الحدیث:۷۴۱۹،ج۵،ص۳۰۵۔
4…الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان،کتاب الحظروالاباحۃ،،الحدیث:۵۶۳۶،ج۷،ص۴۷۰۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع