30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جس پر ہم پانی لاتے ہیں ، اب اس پر قا بو پانا دشوار ہے کہ وہ کسی کواپنی پیٹھ پر بیٹھنے نہیں دیتا اور ہماری کھیتیاں اور درخت پیاسے ہیں۔ آپصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کو حکم فرمایا: ’’کھڑے ہو جاؤ۔‘‘ پس وہ اٹھ کھڑے ہوئے اور باغ میں داخل ہو گئے، اونٹ باغ کی ایک جانب تھا،آپصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اس طرف چل دئیے تو انصار نے عرض کی: ’’ یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! یہ کتے کی طرح ہو گیا ہے اور ہمیں ڈر ہے کہ آپصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر حملہ نہ کر دے۔‘‘ آپصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:’’مجھے اس سے کوئی خطرہ نہیں۔‘‘
جب اونٹ نے رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی طرف دیکھا تو آپصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پاس آ گیا یہاں تک کہ آپ کے سامنے سجدہ ریز ہو کر گر پڑا۔ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اسے پیشانی سے پکڑ لیا، وہ اتنا ذلیل وحقیر لگ رہا تھاکہ اس قدر پہلے کبھی نہ تھا یہاں تک کہ آپصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اسے کام میں لگا دیا۔ صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن نے آپصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے عرض کی: ’’یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! یہ چوپایہ ہے جو عقل نہیں رکھتا پھر بھی آپصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو سجدہ کررہاہے اور ہم عقل رکھتے ہیں لہٰذا ہمارا زیادہ حق بنتا ہے کہ آپصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو سجدہ کریں۔‘‘ توآپصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:’’کسی انسان کے لئے جائز نہیں کہ کسی انسان کو سجدہ کرے اور اگر کسی انسان کو سجدہ کرنا جائز ہو تا تو میں شوہر کے عورت پر عظیم حق کی بنا پر عورت کو حکم دیتا کہ وہ اسے سجدہ کرے، اگر مرد کے قدموں سے لے کرسرکی چوٹی تک زخم ہوں جن سے پیپ اور خون جاری ہو اور عورت اپنی زبان سے چاٹ لے تو بھی اس نے شوہر کا حق ادا نہیں کیا۔‘‘ (۱)
{25}…سرکارِ مدینہ ،قرارِ قلب وسینہ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عظیم ہے: ’’اگر میں کسی کو سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو عورتوں کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہروں کو سجدہ کریں اس لئے کہ عورتوں پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے شوہر وں کے حقوق ہیں۔‘‘ حضورصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے یہ بات اس وقت فرمائی جب حضرت سیِّدُنا قیس بن سعد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اہلِ حیرہ کو اپنے بادشاہ کو سجدہ کرتے ہوئے دیکھا اور عرض کی: ’’آپصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اس کے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…المسند للامام احمد بن حنبل ،مسند انس بن مالک بن النضر، الحدیث:۱۲۶۱۴، ج۴، ص۳۱۷۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع