30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اسی کے متعلق اللہ عَزَّوَجَلَّ بھی ارشاد فرماتا ہے: وَعَاشِرُوۡہُنَّ بِالْمَعْرُوۡفِ ۚ (پ۴، النساء:۱۹)
ترجمۂ کنزالایمان:اوران سے اچھا برتاؤکرو۔
ابراہیم بن سری بن سہل ،المعروف امام زجاج (متوفی۳۱۱ھ)لکھتے ہیں : ’’اس سے مراد خرچہ، گھر میں انصاف اور گفتگو میں نرمی ہے۔‘‘ یہ بھی منقول ہے کہ’’مرد بھی عورت کے لئے اسی طرح سنورے جیسے وہ اس کے لئے سنورتی ہے۔‘‘
حضرت سیِّدُنا امام اابوعبداللہ محمد بن احمد قرطبیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی(متوفی۶۷۱ھ) نے علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام سے نقل فرمایا ہے کہ ’’انہوں نے اس آیت ِمبارکہ سے استدلال کیا ہے کہ اگر بیوی کو ایک خادم کافی نہ ہو تو زیادہ خُدَّام رکھنا واجب ہے۔‘‘ اور امام قرطبیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی(متوفی۶۷۱ھ) نے حضرت سیِّدُنا امام محمد بن ادریس شافعی (متوفی۲۰۴ھ) اور حضرت سیِّدُنا امامِ اعظم ابوحنیفہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَا (متوفی۱۵۰ھ) کے اس قول کو غلط قرار دیا ہے کہ ’’مرد پر بیوی کے لئے ایک ہی خادم رکھنا واجب ہے۔‘‘ کیونکہ دنیا میں کئی عورتیں ایسی ہیں جنہیں ایک خادم کفایت نہیں کرتا جیسا کہ بادشاہوں کی لڑکیاں جن کی شان بہت بلند ہوتی ہے، کھانا پکانے اور کپڑے دھونے کے لئے انہیں ایک خادم کافی نہیں ہو تا ۔
حضرت سیِّدُنا امام قرطبیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی(متوفی۶۷۱ھ) کے اس مؤقف کورد کرتے ہوئے کہا گیا کہ صرف اس نظریہ کی بنا پر ائمۂ کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کو غلط قرار دینا بالکل فساد ہے، کیونکہ گفتگوتو ان حقوق کے متعلق ہو رہی ہے جو خاوند پر زوجیت کے اعتبار سے واجب ہیں اور اس اعتبار سے یہ بات بھی معلوم ہے کہ مرد پر وہی اشیاء مہیا کرنا واجب ہے جن کی ذاتی طور پر عورت محتاج ہوتی ہے اورجو اس کی ذات سے متعلق ہوتی ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ بیوی کے لئے ان سب کے حصول کے لئے صرف ایک خادم کافی ہے۔ اگر اسے ایک سے زیادہ خدام کی ضرورت ہو تو اس کی دو صورتیں ہیں : (۱)…اگر عورت کو خادم کی ضرورت ان امور کی وجہ سے ہو جو زوجیت سے خارج ہوں اوران کا تعلق اس کی اپنی ذات سے ہو تو اس کی ذمہ داری اسی پر ہے اور (۲)… اگر وہ امور مرد سے متعلقہ ہوں تو اس کی ذمہ داری مرد پر ہے مگر زوجیت کے اعتبار سے نہیں۔
پس دونوں امام صاحبان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَا کے فرمان کا صحیح ہونا ظاہر ہو گیا اور جس نے انہیں غلط قرار دیا اس کا انہیں غلط قرار دینے میں سخت کلامی سے پیش آنا بھی اچھی طرح واضح ہو گیا۔ ائمۂ کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامکا ادب کرنے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع