30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میں اپنی بیوی کی خاطر اسی طرح سنورتا ہوں جس طرح وہ میرے لئے سنورتی ہے۔‘‘ (۱)
بعض علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام فرماتے ہیں : ’’مرد پر لازم ہے کہ عورت کے حقوق اور ضروریات پوری کرے اور عورت پر بھی اس کی فرمانبرداری اور تابعداری کرنا واجب ہے۔‘‘ جبکہ بعض کا قول یہ ہے کہ’’عورتوں کا اپنے شوہروں پر حق یہ ہے کہ جب وہ طلاق دے کررجوع کریں تو ان کی غلطی کی اصلاح بھی کریں ، جبکہ مردوں کا ان پر یہ حق ہے کہ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ان کے رحموں میں جو پیدا کیا ہے اسے نہ چھپائیں۔‘‘ زیادہ بہتر اور مناسب تو یہ ہے کہ آیت ِ مبارکہ کو اس کے عام حکم پر باقی رکھا جائے اگرچہ اس کا ابتدائی حصہ اس قول کی تائید کرتا ہے۔
بہرحال مرد کا مرتبہ عورت سے بلند تر ہے کیونکہ وہ فضل، عقل، دیت، میراث اور غنیمت کے اعتبار سے اس سے زیادہ کامل ہے اور امامت، فیصلہ کرنے اور گواہی دینے کی صلاحیت رکھتا ہے، ایک بیوی کی موجودگی میں دوسری سے شادی کر سکتا ہے اور کسی کو اپنی لونڈی بھی بنا سکتا ہے، طلاق دینے اور پھر رجوع کرنے کا اختیار رکھتاہے اگرچہ عورت انکار بھی کرے مگر عورت طلاق دینے کا اختیار نہیں رکھتی۔
اس کے علاوہ رحمت و شفقت اور باہمی معاملات کو خوش اسلوبی سے طے کرنے کی ذمہ داری مرد پر زیادہ ہے جیسے مہر دینا، نفقہ دینا، عورت کو ضرر رساں اشیا ء سے بچانا، اس کی ضروریات پوری کرنا اور اسے آفات و بلیات کی جگہوں پر جانے سے روکنا۔ لہٰذا انہی زائد حقوق کی وجہ سے عورت کو مرد کی خدمت سر انجام دینے کی زیادہ تاکید کی گئی ہے۔
جیسا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے: اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوۡنَ عَلَی النِّسَآءِ بِمَا فَضَّلَ اللہُ بَعْضَہُمْ عَلٰی بَعْضٍ وَّبِمَاۤ اَنۡفَقُوۡا مِنْ اَمْوٰلِہِمْ ؕ (پ۵، النسآئ:۳۴)
ترجمۂ کنزالایمان:مردافسرہیں عورتوں پراس لئے کہ اللہ نے ان میں ایک کوددوسرے پر فضیلت دی اوراس لئے کہ مردوں نے ان پر اپنے مال خرچ کئے۔
مرد کی افضلیت کی وجوہات:
یہی وجہ ہے کہ اس آیت ِمقدسہ کی تفسیر کرتے ہوئے مفسرینِ کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامنے ارشاد فرمایا:’’بہت سی حقیقی اور شرعی وجوہات کی بنا پر مردوں کو عورتوں پر فضیلت دی گئی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…الجامع لاحکام القرآن للقرطبی، البقرۃ، تحت الآیۃ۲۲۸،ج۲، الجزء الثالث،ص۹۶۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع