30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۳۔ باب عشرۃ النساء
کبیرہ نمبر273: ظلمًا ایک بیوی پر دوسری کو ترجیح دینا
{1}…حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حضورنبی ٔمُکَرَّم،نُورِ مُجسَّمصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے: ’’جس کی دو بیویاں ہوں اور اس نے دونوں کے درمیان عدل نہ کیا تو وہ بروزِقیامت اس حال میں آئے گا کہ اس کا ایک پہلو مفلوج ہوگا۔‘‘ (۱)
{2}… رسولِ اَکرم،شاہ ِبنی آدمصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:’’جس کی دو بیویاں ہوں اور وہ ان میں سے ایک کی طرف مائل ہو تو بروز قیامت یوں آئے گا کہ اس کاایک پہلو مفلوج ہو گا۔‘‘ (۲)
{3}… حضورنبی ٔرحمت، شفیعِ اُمتصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے: ’’جس کی دو بیویاں ہوں اوروہ ایک کی نسبت دوسری کی طرف زیادہ مائل ہو تو قیامت کے دن اس حالت میں آئے گا کہ اس کا ایک پہلو مفلوج ہو گا۔‘‘ (۳)
{4}…صحیح ابن ماجہ اور صحیح ابن حبان کی روایت میں ہے:’’اسکے دونوں پہلوؤں میں سے ایک فالج زدہ ہو گا۔‘‘(۴)
وضاحت: حدیث ِ پاک میں مذکور لفظ ِ ’’مَالَاور یَمِیْلُ‘‘ سے مراد یہ ہے کہ دونوں میں سے ایک کو ان ظاہری اُمور میں ترجیح دے جن میں حضور صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ترجیح دینا حرام قرار دیا نہ کہ دل کا مائل ہونا۔ کیونکہ اصحابِ سننِ اربعہ (یعنی سننِ ترمذی، سننِ ابی داؤد ، سننِ ابنِ ماجہ اور سننِ نسائی)اور حضرت سیِّدُنا ابن حبان رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام نے اپنی صحیح میں روایت نقل فرمائی ہے کہ،
{5}۔۔۔۔اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا ارشاد فرماتی ہیں :حضورنبی ٔ رحمت صلَّی اللہ تَعَالٰی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…جامع الترمذی،ابواب النکاح،باب ماجاء فی التسویۃ بین الضرائر،الحدیث:۱۱۴۱،ص۱۷۶۳۔
الترغیب والترھیب،کتاب النکاح،باب الترھیب من ترجیح احدی…الخ،الحدیث:۳۰۲۹،ج۳،ص۲۸۔
2…سنن ابی داود،کتاب النکاح، باب فی القسم بین النسائ، الحدیث:۲۱۳۳،ص۱۳۸۰۔
3…سنن النسائی ،کتاب عشرۃ النساء ،باب میل الرجل الی بعض نسائہ دون بعض ،الحدیث:۳۳۹۴،ص۲۳۰۷۔
4…سنن ابن ماجہ، ابواب النکاح ،باب القسم بین النساء ،الحدیث:۱۹۶۹،ص۲۵۹۴۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع