30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سیِّدُنا ابن صباغ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ(متوفی۴۷۷ھ) کا قول اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ یہاں مروّت کو ترک کرنے کی وجہ سے گواہی مردود نہ ہو گی کیونکہ مروّت ترک کرنا حرام نہیں بلکہ گواہی مردود ہونے کی وجہ صغیرہ گناہ پر اصرار کرنا ہے اس لئے کہ یہی اصرار بعد میں کبیرہ بن جاتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ دو الگ اور مختلف معاملے ہیں جو صرف کھانے سے متعلق ہیں۔ لہٰذا یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگر کوئی شخص عمدہ اور لذیذ کھانے پر جھپٹ پڑے یا اس طرح اپنی پلیٹ میں کھانا اٹھا کر اسے بھر لے جیسا کہ عموما گھٹیا لوگ کرتے ہیں اور ایسا گھٹیا فعل حاضرین پر گراں گزرتا ہے اور وہ حیا سے اپنی آنکھیں جھکا لیتے ہیں پس یہ عمل مروّت و حیا کے دامن کو چاک کرنے والا ہے۔ لہٰذا گواہی مردود ہونے کے لئے کسی کا ایسی دعوت میں بِن بلائے ایک ہی بار جانا کافی ہے اور بار بار جانے کا بھی کوئی اعتبار نہیں۔
ظاہر یہ ہے کہ انہوں نے حضرت سیِّدُنا ابن صباغ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ(متوفی۴۷۷ھ) کا کلام ذکر کرنے کے بعد یہ قول اپنے استاذ حضرت سیِّدُنا امام اذرعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی (متوفی۷۸۳ھ)سے لیا ہے اور ان کے علاوہ نے اسے صغیرہ قرار دیا ہے جو تکرار سے کبیرہ بن جاتا ہے اور یہ بات گزر چکی ہے کہ دینار کا چوتھائی حصہ بھی غصب کرنا کبیرہ گناہ ہے اور ایک یا دو بار کا کھانا غالباً اس حد تک تو نہیں پہنچتا۔ البتہ! یہ خلافِ مروّت ہے۔ ہاں جیسا کہ بعض گھٹیا طفیلیے کرتے ہیں کہ جب کسی خاص دعوت میں جاتے ہیں تو عمدہ و لذیذ کھانے پر جھپٹ کر کافی مقدار میں اٹھا لیتے ہیں جو کہ صاحبِ خانہ پر بہت گراں گزرتا ہے لیکن وہ لوگوں سے شرماتے ہوئے اور مروّت سے خاموش رہتا ہے۔ پس یہ مروّت کو داغدارکرنے اور دستارِحیا کو تار تار کرنے والی عادت ہے۔ لہٰذا ایک بار ایسا کرنے سے ہی گواہی مردود ہوجائے گی۔
’’اَ لْمُؤقَف لِلْجَیْلی‘‘میں ہے کہ ’’اس طفیلی کی گواہی مقبول نہیں جو بِن بُلائے لوگوں کی دعوت میں شریک ہو جاتا ہے۔‘‘ حضرت سیِّدُنا امام شافعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی (متوفی۲۰۴ھ) نے بھی یہی کہا ہے اور ہم کسی کو نہیں جانتے جواس کے مخالف ہو کیونکہ مرفوع حدیث ِ پاک ہے کہ’’جو بِن بلائے کھانے کے لئے آیا وہ چور بن کر آیا اورڈاکو بن کر نکلا۔‘‘ کیونکہ وہ حرام کھاتا ہے اور ایسا کام کرتا ہے جس میں سفاہت، کمینگی اور مروّت کا ختم ہونا پایا جاتا ہے۔ اگر وہ بار بار ایسا نہ کرے تو اس کی گواہی مردود نہیں کیونکہ یہ صغیرہ گناہ ہے۔ (۱)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…المغنی لابن قدامۃ،کتاب الشہادات ،مسألۃ۱۸۹۰،فصل ولا تقبل شھادۃ الطفیلی،ج۱۴،ص۱۶۹۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع