30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نفس کو کسی خواہش سے روک سکے اور اس طرح اس پر عبادت کا دروازہ بند ہو جاتا ہے۔ پھر جب معاملہ یہاں تک پہنچ جائے تو کوئی بعید نہیں کہ اسے یہ کہا جائے: ’’اَذْہَبْتُمْ طَیِّبٰتِکُمْ فِیۡ حَیَاتِکُمُ الدُّنْیَا وَ اسْتَمْتَعْتُمۡ بِہَا ۚ فَالْیَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْہُوۡنِ‘‘پس یہ کسی طرح مناسب نہیں کہ آپ اپنے نفس کو اس کے لالچی پن کی طرف مائل ہونے دیں ، ورنہ اس کا تدارک مشکل ہو جائے گا۔ البتہ! ابتدا ہی میں اس کا سد باب کرنا ممکن ہے کیونکہ یہ اس سے آسان ہے کہ آپ پہلے اسے فساد کا عادی بنائیں اور پھر اسے اصلاح کی طرف لوٹانے کی کوشش کریں۔
میں نے حضرت سیِّدُنا امام شہاب الدین اذرعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی (متوفی۷۸۳ھ) اور حضرت سیِّدُنا امام زرکشی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی کے کلام کو ملاحظہ کیا تو پایا کہ پہلے گناہ کے متعلق انہوں نے بھی میرے ذکر کردہ مؤقف کی تائید کی ہے۔ ’’الأُمّ ‘‘میں حضرت سیِّدُنا امام محمد بن ادریس شافعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی (متوفی۲۰۴ھ)سے منقول ہے کہ’’جو بلاحاجت، بِن بُلائے کسی دعوت پر جائے، اسے صاحبِ خانہ کی اجازت نہ ہو پھر بھی شریک ِ دعوت ہو جائے تو وہ مَرْدُوْدُ الشَّہَادَت ہو جائے گا (یعنی اس کی گواہی قبول نہ کی جائے گی) کیونکہ وہ حرام کھاتا ہے بشرطیکہ وہ دعوت اس جیسے عام شخص کی طرف سے ہو۔ لیکن اگر کھانا کسی بادشاہ یا بادشاہ جیسے معزز شخص کی طرف سے ہو اور وہ لوگوں کو دعوت دے تو یہ کھانا سب کے لئے عام ہے اور اس کے کھانے میں کوئی حرج نہیں۔‘‘ (۱)
’’رَوْضَۃُ الطَّالِبِیْن وَعُمْدَۃُ الْمُفْتِیْن‘‘میں ’’اَلشَّامِل‘‘ کے حوالے سے ہے، ’’(گواہی مردود ہونے کے لئے) بار بار آنا شرط ہے کیونکہ کبھی اسے شبہ ہوتا ہے یہاں تک کہ صاحبِ خانہ منع کر دیتا ہے۔ لہٰذا جب وہ بار بار آئے گا تو یہ مروّت کی کمی اور کمینگی کہلائے گی۔‘‘ (۲)
حضرت سیِّدُنا ابن صبَّاغ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ(متوفی۴۷۷ھ) سے منقول ہے کہ’’حضرت سیِّدُنا امام شافعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی (متوفی۲۰۴ھ) نے(گواہی مردود ہونے کے لئے) دعوت میں بار بار آنا شرط قرار دیاہے کیونکہ بار بار آنا گھٹیا پن اور مروّت کی کمی کا باعث ہے۔‘‘ یہ حضرت سیِّدُنا امام شافعیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی(متوفی۲۰۴ھ) کے اس قول کے برعکس ہے جو اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ ’’ گواہی مردود ہونے کی وجہ یہ ہے کہ وہ حرام کھاتا ہے ۔‘‘ جبکہ حضرت
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…الأم للامام الشافعی،کتاب الأقضیۃ، شھادۃ القاذف،ج۳،الجزء السادس،ص۲۲۷۔
2…روضۃ الطالبین وعمدۃ المفتین للنووی ،کتاب الشھادات ،فرع الخمر العینیۃ…الخ ،ج۱۱،ص۲۳۲۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع