30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تنبیہ:
پہلے تین گناہوں کو کبیرہ گناہوں میں شمار کرنا تو واضح ہے۔ اس وجہ سے کہ پہلے دومیں باطل طریقے سے مال کھانا پایا جا رہا ہے۔ نیزاس باب کی ابتدا میں ابو داؤد شریف کی بیان کردہ یہ روایت پہلے گناہ کے کبیرہ ہونے پر واضح ہے کہ ’’وہ چور کی شکل میں داخل ہوا اور ڈاکو بن کر نکلا۔‘‘ اسے حضرت سیِّدُنا امام ابو داؤد سلیمان بن اَشْعَثسَجِسْتَانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی(متوفی۲۷۵ھ) نے ضعیف قرار نہیں دیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ اُن کے نزدیک اس سے استدلال کرنا صحیح ہے۔ البتہ! اُن کے علاوہ دیگر کئی محدثینِ کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام فرماتے ہیں :اس میں ایک راوی مجہول ہے جس کے قابلِ اعتماد ہونے میں اختلاف ہے اور جمہور علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کے نزدیک بھی یہ ضعیف ہے۔ رہا تیسرا گناہ تو چونکہ اس میں اپنی جان کا نقصان ہے اور یہ اسی طرح کبیرہ گناہ ہے جیسا کہ کسی دوسرے کو نقصان پہنچانا۔ اسی طرح لباس کے متعلق گزشتہ روایات مثلاً تکبر کی بنا پر تہبند وغیرہ لٹکانے، پر قیاس کرتے ہوئے عنوان میں مذکور چوتھے گناہ کو بھی کبیرہ شمار کیا گیا ہے۔ کیونکہ ان دونوں میں ایک قدرِ مشترک ہے یعنی خود پسندی اورتکبر کرنا۔ اس بنا پر ان احادیث ِ مبارکہ میں وارد وعید نقصان کی حد تک بسیار خوری یا غیر کے مال سے شکم پروری پر محمول ہو گی۔
حضرت سیِّدُناابوعبداللہ حسین بن حسن بن محمدحلیمی شافعیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی(متوفی۴۰۳ھ) کا قول اس کی تائید کرتا ہے۔چنانچہ، آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے اس فرمان عالیشان: ’’اَذْہَبْتُمْ طَیِّبٰتِکُمْ فِیۡ حَیَاتِکُمُ الدُّنْیَا وَ اسْتَمْتَعْتُمۡ بِہَا ۚ فَالْیَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْہُوۡنِ (پ۲۶، الاحقاف:۲۰)ترجمۂ کنز الایمان: ان سے فرمایاجائے گاتم اپنے حصہ کی پاک چیزیں اپنی دنیا ہی کی زندگی میں فناکر چکے اورانہیں برت چکے توآج تمہیں ذلت کا عذاب بدلہ دیاجائے گا۔‘‘کی وضاحت کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں : ’’یہ وعید اگرچہ کفار کے لئے ہے جو پاک ممنوع چیزوں کی طرف بڑھتے تھے اس لئے اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا: ’’فَالْیَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْہُوۡنِ‘‘ مگر جو لوگ پاک مباح چیزوں میں زیادہ مشغول رہتے ہیں ان پر بھی اس طرح کے عذاب کا ڈر ہے کیونکہ جو ان چیزوں کی طرف مائل ہوتا ہے تو اس کا دل دُنیا کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔ لہٰذا وہ خواہشات و لذات میں پھنسنے سے نہیں بچ سکتا۔ جب بھی وہ اپنے نفس کی کسی خواہش کو پورا کرتا ہے تو وہ اسے دوسری خواہش کی تکمیل پر ابھارنے لگ جاتا ہے۔ پس اس کے لئے یہ ممکن نہیں رہتا کہ وہ اپنے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع