30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
آنت سے کھاتا ہے جبکہ کافر سات آنتوں سے کھاتا ہے۔‘‘ (۱)
{5}…شَفِیْعُ الْمُذْنِبِیْن،اَنِیْسُ الْغَرِیْبِیْنصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ایک کافر مہمان کی میزبانی کی اور اس کے لئے بکری کا دودھ دوہنے کا حکم دیا پس دودھ دوہا گیا اور وہ اس کا دودھ پی گیا، پھر دوسری بکری کا دودھ دوہا گیا وہ اس کا دودھ بھی پی گیا، پھر تیسری بکری کا دودھ دوہا گیا وہ اس کا دودھ بھی پی گیا یہاں تک کہ وہ سات بکریوں کا دودھ پی گیا۔ پھر صبح کے وقت وہ مسلمان ہو گیا۔ آپ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس کے لئے ایک بکری کا دودھ دوہنے کا حکم دیا، دودھ دوہا گیا اور وہ اس کا دودھ پی گیا پھر دوسری بکری کا دوہا گیا لیکن وہ مکمل نہ پی سکا۔ آپ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:’’مسلمان ایک آنت سے پیتا ہے جبکہ کا فر سات آنتوں سے پیتا ہے۔‘‘ (۲)
{6}…اللہ عَزَّوَجَلَّ کے مَحبوب، دانائے غُیوبصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے: ’’ابن آدم نے اپنے پیٹ سے برا برتن نہیں بھرا، اگر کھانا ہی ہو تو اس کے لئے چند لقمے کافی ہیں جو اس کی کمر کو سیدھا رکھیں۔‘‘ (۳)
{7}…حُسنِ اَخلاق کے پیکر، مَحبوبِ رَبِّ اَکبرصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:’’اگر آدمی پر اس کا نفس غالب آجائے تو(پیٹ کے تین حصے کر لے) ایک تہائی حصہ کھانے کے لئے،دوسرا تہائی پانی کے لئے اور تیسرا تہائی حصہ سانس کے لئے چھوڑے۔‘‘ (۴)
{8}…حضور نبی ٔاکرم ،نورمجسمصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عبرت نشان ہے: ’’دنیا میں سب سے زیادہ پیٹ بھرنے والا قیامت کے دن سب سے زیادہ بھوکا ہو گا۔‘‘(راوی فرماتے ہیں :) آپ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سیِّدُنا ابو جحیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے یہ اس وقت ارشاد فرمایا تھا جب انہوں نے خوب پیٹ بھر کر کھانا کھا کر ڈکار لی۔ اس کے بعد آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے کبھی پیٹ بھر کر نہ کھایا یہاں تک کہ دنیا سے رخصت ہوگئے۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ جب صبح کے وقت کچھ کھا لیتے تو شام کو نہ کھاتے اور جب شام کے وقت کھا لیتے تو صبح نہ کھاتے۔ (۵)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…صحیح البخاری ،کتاب الإطعمۃ ،باب المؤمن یأکل فی معًی واحدٍ،الحدیث:۵۳۹۳،ص۴۶۶ ۔
2…صحیح مسلم ،کتاب الأشربۃ ،باب المؤمن یأکل فی معًی واحدٍ…الخ ،الحدیث:۵۳۷۹،ص۱۰۴۶بتغیرٍقلیلٍ۔
3…جامع الترمذی،ابواب الزھد،باب ماجاء فی کراھیۃ الکثرۃ الأکل،الحدیث:۲۳۸۰،ص۱۸۹۰۔
4…سنن ابن ماجہ،ابواب الأطعمۃ ،باب الإقتصاد فی الأکل وکراہۃ الشبع ،الحدیث:۳۳۴۹،ص۲۶۷۹۔
5…المعجم
الاوسط، الحدیث:۸۹۲۹،ج۶،ص۳۲۵،’’أکثرہم جوعا‘‘بدلہ’’أطولہم جوعا‘‘۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع