30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وَسَلَّم نے یہ ارشاد فرماتے ہوئے اسے پھینک دیا کہ ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے رسول عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام وعدہ خلافی نہیں کرتے۔‘‘ پھر آپ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم متوجہ ہوئے تو ایک کتے کا پِلّا چارپائی کے نیچے دیکھ کر دریافت فرمایا: ’’یہ کتا کب سے آیا ہے؟‘‘ میں نے عرض کی:’’اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! مجھے نہیں معلوم۔‘‘ آپ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حکم دیا تو میں نے اسے باہر نکال دیا۔ پھر حضرت سیِّدُنا جبرائیلعَلَیْہِ السَّلَام حاضر ہوئے تو آپ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان سے دریافت فرمایا:’’آپ نے مجھ سے وعدہ کیا، میں آپ کے لئے بیٹھا رہا لیکن آپ نہیں آئے۔‘‘ تو حضرت سیِّدُنا جبرائیل عَلَیْہِ السَّلَام نے عرض کی:’’میں گھر میں موجود کتے کی وجہ سے حاضر نہ ہوا، ہم اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا یا تصویر ہو۔‘‘ (۱)
تنبیہ:
مذکورہ گناہ کو کبیرہ گناہوں میں شمار کیا گیا ہے اور یہ ذکر کردہ صحیح احادیث سے واضح ہے۔ اسی وجہ سے علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کے ایک گروہ نے اسی مؤ قف کو اختیار کیا اور یہی ظاہر ہے۔ حضرت سیِّدُنا امام محی الدین ابوزکریا یحییٰ بن شرف نوویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی (متوفی ۶۷۶ھ)کی شرح مسلم میں بھی اسی طرح ہے۔ میں نے عنوان میں اس کی حرمت کو عام ذکر کیا بلکہ یہ ان اقسام کی وجہ سے کبیرہ ہے جن کی طرف میں نے ظاہری طور پر اشارہ کیا۔ کیونکہ مذکورہ تمام صورتوں میں ایک ہی چیز کو ملاحظہ کیا جا رہا ہے۔ نیز فقہائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کا قول بھی اس کی نفی نہیں کرتا اور جو تصویر زمین یا چٹائی یا دستکاری کے کسی نمونے پر ہو وہ جائز ہے کیونکہ اس سے مراد یہ ہے کہ اس کو باقی رکھنا جائز ہے اور ضائع کرنا واجب نہیں۔ جب کسی ولیمہ کی جگہ میں اس طرح کی تصاویر ہوں تو یہ وہاں حاضری کے وجوب سے مانع نہیں۔ رہا جاندار کی تصویر بنانا تو وہ مطلقًا حرام ہے اگرچہ تصویر میں بعض ایسے ظاہری یا باطنی اعضاء پوشیدہ ہوں جن کے بغیر بھی زندگی پائی جا سکتی ہے۔ پھر میں نے شرح مسلم میں دیکھا کہ انہوں نے بھی میرے ذکر کردہ مؤقف کی وضاحت کی۔ ان کے کلام کا خلاصہ یہ ہے:
’’حیوان کی تصویر بنانا حرام ہے اور اسے احادیث ِ مبارکہ میں وارد شدید وعید کی بنا پر کبیرہ گناہوں میں شمار کیا گیا ہے خواہ اس تصویر کو قابلِ قدر جگہ یا ذلت و بے قدری کی جگہ پر رکھنے کے لئے بنایا گیا ہو کیونکہ اس میں اللہ عَزَّوَجَلَّ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…صحیح مسلم،کتاب اللباس،باب تحریم تصویر…الخ، الحدیث:۵۵۱۱،ص۱۰۵۴،بتغیرٍ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع