30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
{16}… ایک روایت میں ہے کہ حضورنبی ٔرحمت، شفیعِ اُمتصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:’’(ایک دفعہ) میرے پاس حضرت جبریلعَلَیْہِ السَّلَامآئے اور عرض کی:’’میں رات کو بھی آپ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پاس حاضر ہوا تھا لیکن گھر کے دروازے پر کسی انسان کی تصاویر کی وجہ سے میں آپ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پاس نہ آیا اور گھر میں ایک نقش ونگار والا رنگین کپڑا اورایک کتا بھی تھا۔ لہٰذا دروازے پر جو تصویریں ہیں ان کے سروں کو کاٹنے کا حکم فرمائیے تا کہ وہ درخت کی طرح ہو جائیں اور پردے کے متعلق حکم فرمائیے کہ اسے کاٹ کر دو گدے بنا لئے جائیں تا کہ وہ (تصویریں ) پیروں سے روندی جائیں اور کتے کو بھی باہر نکالنے کا حکم دیجئے۔‘‘ پس حضورصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ایسا ہی کیا۔ وہ پِلّا(یعنی کتے کا بچہ) حضرت سیِّدُنا امام حسن یا سیِّدُناامام حسین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا تھا جو آپ کے تخت کے نیچے (بیٹھ گیا) تھا۔ آپ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے حکم پر اسے نکال دیا گیا۔‘‘ (۱)
{17}…حضرت سیِّدُنا اسامہ بن زید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ’’میں حضور نبی ٔکریم، رَ ء ُوف رَّحیمصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں حاضر ہوا جبکہ آپ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر رنج و غم کے آثار نمودار تھے۔ میں نے وجہ دریافت کی تو ارشاد فرمایا:’’3 دن سے میرے پاس حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام نہیں آئے۔‘‘ اچانک آپ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کتے کا بچہ اپنے سامنے بیٹھے دیکھا تو آپ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے حکم پر اسے مار دیا گیا۔ حضرت سیِّدُنا جبریلعَلَیْہِ السَّلَام آپ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمتِ عالیشان میں حاضر ہوئے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ کے مَحبوبصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے تبسم فرمایا اور دریافت فرمایا:’’آپ میرے پاس کیوں نہیں آئے؟‘‘ تو انہوں نے عرض کی:’’ہم (یعنی رحمت کے فرشتے) اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا یا تصویریں ہوں۔‘‘ (۲)
{18}…ام المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا ارشاد فرماتی ہیں کہ سرکارِ مدینہ ،قرارِ قلب وسینہ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے حضرت سیِّدُنا جبریلعَلَیْہِ السَّلَام نے ایک مخصوص وقت حاضر ہونے کا وعدہ کیا۔ جب وہ لمحہ آیا تو حضرت سیِّدُنا جبریلعَلَیْہِ السَّلَام حاضر نہ ہوئے۔آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا ارشاد فرماتی ہیں :’’دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ہاتھ میں ایک عصا مبارک تھا۔ آپ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…جامع الترمذی، ابواب الأدب،باب ماجاء أن الملائکۃ لاتدخل بیتا..الخ،الحدیث:۲۸۰۶،ص۱۹۳۳۔
2…المسند للامام احمدبن حنبل،حدیث اسامۃ بن زید ،الحدیث:۲۱۸۳۱،ج۸،ص۱۸۰،بتغیرٍ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع