30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تنبیہ:
اسے بھی کبیرہ گناہوں میں شمار کیا گیا ہے، یہ پہلی صحیح حدیث اوربعد والی احادیث ِمبارکہ سے واضح ہے اور اسی پر بعض علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام نے اعتماد کیا ہے لیکن انہوں نے عنوان یہ دیا ہے کہ وہ کسی عورت سے نکاح کرے اور اس کے دل میں یہ خیال نہ ہو کہ وہ مہر ادا کرے گا۔ مگر میں نے اس سے مختلف عنوان دیا ہے اور وہ بڑا واضح ہے۔ یعنی جس کے دل میں نہ تو مہر ادا کرنے کا خیال ہو اور نہ منع کرنے کا تو اس پر حرمت کا اطلاق نہیں ہو گا چہ جائیکہ کبیرہ قرار دیا جائے۔ میں نے اس عبارت سے یہی سمجھا ہے۔ البتہ! جس کا یہ قول ہے اس نے پہلی حدیث کے ظاہر سے دھوکا کھایا ہے اور اس کے آخری حصے کی طرف نہیں دیکھا اور نہ ہی اس کی مابعد روایت کی طرف دیکھا جس میں یہ ہے کہ ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ جانتا ہے کہ اس کا مہر ادا کرنے کا ارادہ نہیں۔‘‘ اگر وہ اس کو دیکھتا تو وہی عنوان دیتا جو میں نے دیا ہے۔
سوال:اس کو کبیرہ گناہ کہنے کی کیا وجہ ہے ؟
جواب:اس گناہ کے کبیرہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اس میں تین کبیرہ گناہ پائے جاتے ہیں : (۱)دھوکا (۲)ظلم اور (۳)آزاد کے منافع کسی چیز کے بدلے حاصل کرناپھر عوض کی ادائیگی سے انکار کر دینا۔
میں نے عنوان میں عورت کے مطالبہ کرنے کی قید اس لئے لگائی تاکہ وہ اس سے نکل جائے جس کا پختہ ارادہ ہو کہ وہ مہر ادا نہ کرے گا (اور عورت بھی مطالبہ نہ کرے)کیونکہ عام طور پر عورتیں یا تو مہر معاف کر دیتی ہیں یا پھر ساری زندگی اس کا مطالبہ ہی نہیں کرتیں۔لہٰذا اس صورت میں مہر ادا نہ کرنے کی وجہ سے وہ گناہ گار نہیں ہو گا، چہ جائیکہ اسے فاسق کہا جائے۔
۞۞۞۞۞۞۞
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع