30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
{4}…خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن،رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْنصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کافرمانِ عالیشان ہے:’’جس نے اپنی بیوی سے اس کے پچھلے مقام میں وطی کی وہ ملعون ہے۔‘‘ (۱)
{5}…سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگارصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ معظم ہے:’’جس نے حائضہ سے یا بیوی کی دبر میں وطی کی یا کسی کاہن کے پاس آیا اور اس کی تصدیق کی تو اس نے اس چیز کا انکار کیا جو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے محمد صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر نازل فرمائی ۔‘‘ (۲)
{6}… ایک روایت میں ہے، ’’وہ اس سے بری ہو گیا جو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے محمد صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر نازل فرمایا۔‘‘ (۳)
{7}…حضرت سیِّدُنا عبداللہبن عمرو رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ سیِّدعالم ،نُورِ مجسَّم صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’یہ لواطت ِ صُغریٰ ہے۔‘‘ یعنی آدمی کااپنی بیوی کی دبر میں وطی کرنا۔ (۴)
{8}…رحمت ِ عالم ،نُورِ مُجسَّم صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:’’شرم وحیا اختیار کرو، بے شک اللہ عَزَّوَجَلَّحق بیان کرنے سے حیا نہیں فرماتا۔ عورتوں کے پچھلے مقام میں جماع نہ کرو۔‘‘ (۵)
{9}…حضرت سیِّدُنا خزیمہ بن ثابت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ حضورنبی ٔمُکَرَّم،نُورِ مُجسَّمصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے تین بار ارشاد فرمایا: ’’بے شک اللہ عَزَّوَجَلَّ حق بیان کرنے سے حیا نہیں فرماتا(پھر ارشاد فرمایا)عورتوں سے ان کے پچھلے مقام میں جماع نہ کرو۔‘‘ (۶)
{10}… حضرت سیِّدُنا جابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ رسولِ اَکرم،شاہ ِبنی آدمصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…سنن ابی داود ،کتاب النکاح ،باب فی جامع النکاح ،الحدیث:۲۱۶۲،ص۱۳۸۲۔
2…سنن ابن ماجہ،ابواب الطہارۃ ،باب النہی عن إتیان الحائض ،الحدیث:۶۳۹،ص۲۵۱۴۔
3…سنن ابی داود،کتاب الکہانۃ والطیر ،باب فی الکہان ،الحدیث:۳۹۰۴،ص۱۵۱۰۔
4…المسند للامام احمد بن حنبل،مسند عبد اﷲ بن عمرو بن العاص،الحدیث:۶۷۱۸،ج۲،ص۶۰۲۔
5…المعجم الکبیر ،الحدیث:۳۷۳۳،ج۴،ص۸۸۔
6…سنن ابن ماجہ،ابواب النکاح ،باب النھی عن إتیان النساء فی أدبارہن
،الحدیث:۱۹۲۴،ص۲۵۹۲۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع