30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہے جس کے صیغۂ راز میں رکھنے پر اور پھیلانے کی قباحت پر عقلا کا اتفاق ہے۔ عنقریبکِتَابُ الشَّہَادَاتمیں اس کے متعلق وضاحت آئے گی۔
اس کی کراہت اور حرمت کے بارے میں حضرت سیِّدُنا امام محی الدین ابوزکریا یحییٰ بن شرف نوویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی (متوفی ۶۷۶ھ) کا کلام مختلف ہے کیونکہ انہوں نے کِتَابُ النِّکَاح میں ذکر فرمایا کہ یہ مکروہ ہے اور شرح مسلم میں مسلم شریف کی مذکورہ حدیث سے استدلال کرتے ہوئے اسے حرام قرار دیا۔ بہرحال ان دونوں اقوال میں اس طرح تطبیق دی جا سکتی ہے کہ حرام اس وقت ہو گاجب وہ اپنی بیوی کے ایسے پوشیدہ احوال کا تذکرہ کرے کہ جو ان دونوں کے درمیان جماع اور خلوت کے وقت پیش آتے ہیں اور مکروہ اس وقت ہو گاجب وہ ایسی بات ذکر کرے جسے مروتاً نہیں چھپایا جاتا۔‘‘ لہٰذابغیر مقصد صرف جماع کا تذکرہ کرنا مکروہ ہو گا۔پھر میں نے بعض علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کا کلام دیکھا کہ انہوں نے بھی میرے ذکر کردہ عنوان کے مطابق بیان فرمایا۔
۞۞۞۞۞۞۞
کبیرہ نمبر265: بیوی یا لونڈی کے پچھلے مقام میں وطی کرنا
{1}…حضرت سیِّدُنا عبداللہبن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے کہ شَفِیْعُ الْمُذْنِبِیْن،اَنِیْسُ الْغَرِیْبِیْن صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:’’اللہ عَزَّوَجَلَّ اس شخص کی طرف نظر رحمت نہیں فرماتا جو کسی مرد سے بدفعلی کرے یا بیوی کی دبرمیں وطی کرے۔‘‘ (۱)
{2}…اللہ عَزَّوَجَلَّ کے مَحبوب، دانائے غُیوبصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:’’جس نے عورت کی دبرمیں وطی کی تحقیق اس نے(حکمِ شریعت کا) انکار کیا۔‘‘ (۲)
{3}…حُسنِ اَخلاق کے پیکر، مَحبوبِ رَبِّ اَکبرصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:’’اللہ عَزَّوَجَلَّ اس شخص کی طرف نظر رحمت نہیں فرماتا جو اپنی بیوی کی دبرمیں وطی کرے۔‘‘ (۳)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…جامع الترمذی،ابواب الرضاع،باب ماجاء فی کراھیۃ إتیان النساء فی أدبارہن، الحدیث:۱۱۶۵،ص۱۷۶۶۔
2…المعجم الاوسط،الحدیث:۹۱۷۹،ج۶،ص۳۹۳۔
3…سنن ابن ماجہ،ابواب النکاح ،باب النھی عن إتیان النساء فی أدبارہن ،الحدیث:۱۹۲۳،ص۲۵۹۲۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع