دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal Jild 2 | جہنم میں لے جانے والے اعمال جلد 2

book_icon
جہنم میں لے جانے والے اعمال جلد 2

اَئمۂ کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کے ایک گروہ نے دونوں احادیث ِ مبارکہ کو مطلق رکھتے ہوئے حلالہ کو حرام قرار دیا ہے۔ ان میں سے چند صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن اور تابعینِ کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کا ہم نے ذکر کیا ہے۔

حضرت سیِّدُنا اما م حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی(متوفی۱۱۰ھ) فرماتے ہیں : ’’جب تینوں کی نیت حلالہ کی ہو تو نکاح ہی فاسد ہے۔‘‘ جبکہ حضرت سیِّدُنا امام نخعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’جب پہلے یادوسرے شوہر یا عورت تینوں میں سے کسی ایک کی حلالہ کی نیت ہو تو دوسرے شوہر کا نکاح باطل ہو گا اور عورت پہلے شوہر کے لئے حلال نہ ہو گی۔‘‘

حضرت سیِّدُنا ابن مسیب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ’’جس نے کسی عورت سے اس لئے نکاح کیا تاکہ وہ اسے پہلے شوہر کے لئے حلال کر ے تو وہ پہلے کے لئے حلال نہ ہو گی۔‘‘سیِّدُنا امام مالک، سیِّدُنا لیث، سیِّدُنا امام سفیان ثوری اورسیِّدُنا امام احمد بن حنبل رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن نے بھی اس قول میں ان کی پیروی کی ہے۔

حضرت سیِّدُنا امام احمد بن حنبل عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَوَّل (متوفی ۲۴۱ھ)سے پوچھا گیا: ’’ایک شخص نے کسی عورت سے اس نیت سے نکاح کیا کہ وہ اسے پہلے شوہر کے لئے حلال کر دے اور عورت کو اس بات کاعلم نہیں۔‘‘ تو آپ نے ارشاد فرمایا:’’وہ حلالہ کرنے والا ہے اور جب اس نکاح سے تحلیل(یعنی عورت کو پہلے شوہر کیلئے حلال کرنے) کا ارادہ کرے تو ملعون ہے۔‘‘ (۱)

۞۞۞۞۞۞۞

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

180 پر حلالہ کے بارے میں احناف کا مؤقف یہ ہے کہ ’’نِکَاح بِشَرْطِ التَّحْلِیْل(یعنی حلالہ کی شرط کے ساتھ نکاح کرنا) جس کے بارے میں حدیث میں لعنت آئی، وہ یہ ہے کہ عقد ِ نکاح یعنی ایجاب و قبول میں حلالہ کی شرط لگائی جائے اور یہ نکاح مکروہِ تحریمی ہے، زوجِ اول و ثانی(یعنی پہلا شوہر جس نے طلاق دی اور دوسرا جس سے نکاح کیا) اور عورت تینوں گنہگار ہوں گے مگر عورت اِس نکاح سے بھی بشرائط ِ حلالہ شوہرِ اوّل کے لئے حلال ہو جائے گی اور شرط باطل ہے اور شوہرِ ثانی طلاق دینے پر مجبور نہیں اور اگر عقد میں شرط نہ ہو اگر چہ نیت میں ہو تو کراہت اصلا ً نہیں بلکہ اگر نیت ِ خیر ہو تو مستحقِ اجر ہے۔‘‘(الدرالمختار،کتاب الطلاق،باب الرجعۃ ،ج۵،ص۵۱، وغیرہ)

1کتاب الکبائر للذھبی،الکبیرۃ الخامسۃ والثلاثون،ص۱۵۸۔


 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن