30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حضرت سیِّدُناامام ابوعیسیٰ محمد بن عیسیٰ ترمذی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی(متوفی۲۷۹ھ)اس حدیث ِ پاک کے ضمن میں فرماتے ہیں : ’’جن اہلِ علم کا اس پر عمل ہے، ان میں امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق اعظم، ان کے صاحبزادے اورامیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعثمان غنیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم شامل ہیں۔ یہی تابعین میں سے فقہاکا قول ہے۔‘‘ (۱)
{3}…حضرت سیِّدُنا عبداللہبن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے کہ حضورنبی ٔپاک، صاحبِ لَوْلاک صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے حلالہ کرنے والے کے بارے میں پوچھا گیا؟تو آپ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:’’(یہ جائز) نہیں ، بلکہ نکاح تو رغبت سے ہوتا ہے نہ کہ مکر وفریب سے اور نہ ہی کتاب اللہ(کے احکام) کا مذاق اڑاتے ہوئے کہ پھر تم ذائقہ چکھنے لگو۔‘‘ (۲)
{4}…امیرالمؤمنینحضرت سیِّدُنا عمرِ فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا:’’میرے پاس جو حلالہ کرنے والا اور کرانے والا لایا گیا میں اس کو رجم کروں گا۔‘‘ (۳)
آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے صاحبزادے سے اس کی وضاحت دریافت فرمائی تو ارشاد فرمایا:’’وہ دونوں زانی ہیں۔‘‘
{5}…ایک شخص نے حضرت سیِّدُنا عبداللہبن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے یہ مسئلہ دریافت کیا:’’آپ اس کے متعلق کیا فرماتے ہیں کہ میں نے ایک عورت سے اس لئے نکاح کیا تا کہ اسے اس کے سابقہ شوہر کے لئے حلال کر دوں حالانکہ اس کے شوہر نے نہ تو مجھے اس کا حکم دیا اور نہ ہی اسے اس کاعلم ہے۔‘‘ تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا:’’(ایسا کرنا صحیح) نہیں ، بلکہ نکاح تو رغبت سے ہوتاہے پھر اگر وہ عورت تجھے پسند آ ئے تو اسے اپنے پاس روک لے اور اگر ناپسند ہو تو چھوڑ دے اور سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے دور میں ہم اسے (یعنی حلالہ کے عمل کو) جہالت شمار کرتے تھے۔‘‘ (4)
{6}…آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے اپنے شوہرِ اول کے لئے(حلال ہونے کے لئے) عورت کے حلالہ کرانے کے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…جامع الترمذی ،ابواب النکاح ،باب ما جاء فی المحلل والمحلل لہ ،تحت الحدیث:۱۱۲۰،ص۱۷۶۰۔
2…المعجم الکبیر، الحدیث:۱۱۵۶۷،ج۱۱،ص۱۸۰،بتغیرٍقلیلٍ۔
3…المصنف لعبد الرزاق،کتاب النکاح ،باب التحلیل، الحدیث:۱۰۸۱۹،۱۰۸۲۰،ج۶،ص۲۱۱۔
4…المعجم الاوسط ،الحدیث:۶۲۴۶،ج۴،ص۳۶۱،بتغیرٍ قلیلٍ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع