30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کبیرہ نمبر259: مَحرم سے نکاح کرنا
یعنی کسی شخص کا ایسی عورت سے نکاح کرنا جو اس پر نسب، رضاعت یا مصاہرت کی وجہ سے حرام ہو اگرچہ اس کے ساتھ ہم بستری نہ کرے پھر بھی یہ کبیرہ گناہ ہے۔
اسے کبیرہ گناہوں میں شمار کیا گیا ہے۔ یہی بات بعض متاخرین علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کے کلام میں بھی موجود ہے لیکن انہوں نے اس کی عمومی حرمت اور عدمِ مجامعت کا ذکر نہیں کیا اور یقینا ان کی اس سے مراد یہی تھی۔ اس کو علیحدہ قسم ذکر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ کسی کا اپنے حرام رشتے سے نکاح کرنا شجرِ شریعت کو جڑ سے اکھیڑنے کے مترادف ہے اور بلاشبہ اس کے نزدیک حدودِ شرعیہ کی پاسداری کی کوئی اہمیت نہیں خصوصاً ایسا فعل جس کی قباحت پر اہلِ خرد و دانش کا اتفاق ہے۔ ایسے فعل کا ارتکاب اس شخص سے کبھی نہیں ہو سکتا جس میں تھوڑی سی بھی مروّت ہو چہ جائیکہ جو دین کو کچھ سمجھتا ہو۔
کبیرہ نمبر260: طلاق دینے والے کا حلالہ پر رضا مند ہونا
کبیرہ نمبر261: طلاق یافتہ عورت کا اِس پررضامند ہونا
کبیرہ نمبر262: حلالہ کرانے والے کا رضا مند ہونا
{1}…حضرت سیِّدُنا عبداللہبن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ’’شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حلالہ کرنے والے اور جس کے لئے حلالہ کیا جائے، دونوں پر لعنت فرمائی۔‘‘ (۱)
{2}…تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نَبوتصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ ہدایت نشان ہے:’’میں تمہیں ادھار لئے ہوئے سانڈ کے بارے میں نہ بتاؤں ؟‘‘ صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن نے عرض کی:’’کیوں نہیں ! یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! (ضرور بتائیں )‘‘ تو آپ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:’’وہ حلالہ کرنے والا ہے، اللہ عَزَّوَجَلَّ نے حلالہ کرنے والے اور جس کے لئے کیا جائے، دونوں پر لعنت فرمائی۔‘‘ (۲)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…سنن النسائی،کتاب الطلاق،باب احلال المطلقۃ ثلاثا وما فیہ من التغلیظ،الحدیث:۳۴۴۵،ص۲۳۱۱۔
2…سنن ابن ماجہ،ابواب النکاح ،باب المحلل والمحلل لہ ،الحدیث:۱۹۳۶،ص۲۵۹۲۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع