30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کبیرہ نمبر255: ولی کا جبرًا نکاح سے روکنا
اس کی صورت یہ ہے کہ عاقلہ و بالغہ عورت اپنے ولی کو اپنے کفؤ (۱)میں (یعنی حسب ونسب وغیرہ میں ہم پلہ شخص سے) شادی کرنے کے لئے کہے لیکن وہ انکار کر دے۔ حضرت سیِّدُنا امام محی الدین ابوزکریا یحییٰ بن شرف نوویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی (متوفی ۶۷۶ھ) نے اپنے فتاویٰ جات میں اس کے کبیرہ گناہ ہونے کی صراحت کی ہے اور ارشاد فرمایا: ’’مسلمانوں کا اس پر اجماع ہے کہ عورت کو نکاح سے جبراً روکنا کبیرہ گناہ ہے۔‘‘ لیکن حضرت سیِّدُنا امام نوویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی (متوفی ۶۷۶ھ) اور دیگر ائمۂ کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام نے اپنی کتابوں میں اس کا صغیرہ ہوناثابت کیاجبکہ کبیرہ ہونے کو ضعیف قرار دیاہے۔ بلکہ حضرت سیِّدُنا امام الحرمین رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے النھایۃ میں ارشاد فرمایا: ’’جب وہاں حاکمِ اسلام موجود ہو تو نکاح سے جبراً روکنا حرام نہیں۔‘‘ جبکہ ان کے علاوہ کسی کا فرمان یہ ہے کہ’’جب ہم حاکم کے ولی ہونے کو جائز قرار دیتے ہیں تو نکاح سے جبراً روکنا مطلقًا حرام نہیں ہونا چاہئے۔‘‘ یعنی اس وقت معاملہ صرف ولی پر منحصر نہیں ہوتا۔ جب ہم اسے صغیرہ گناہ کہیں تو بار بار کرنے سے کبیرہ بن جائے گا۔ حضرت سیِّدُنا امام نوویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی (متوفی ۶۷۶ھ) اور حضرت سیِّدُنا امام رافعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی (متوفی ۶۲۳ھ)کے کلام کا ظاہر ی معنی بھی یہی ہے کہ’’عورت کو جبراً شادی سے روکنا صغیرہ سے کبیرہ گناہ بن جاتا ہے۔‘‘ یعنی انہوں نے فرمایا:’’نکاح سے روکنے کے معاملے میں مجبور کرنا اگرچہ کبیرہ گناہوں میں سے نہیں ، لیکن بار بار اس کا ارتکاب کرنے والا فاسق بن جاتا ہے اور بعض کے نزدیک اس کی کم از کم تعداد تین بار ہے۔‘‘ حضرت سیِّدُنا امام نوویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی (متوفی ۶۷۶ھ) اور حضرت سیِّدُنا امام رافعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی (متوفی ۶۲۳ھ) کے اس قول کی تردید انہی کے اس فرمان سے ہوجاتی ہے جو انہوں نے کِتَابُ الشَّہَادَات میں ذکر فرمایا کہ اس بات پر واضح حکم اور جمہور علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کا قول
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 1182 صَفحات پر مشتمل کتاب ، ’’بہارِ شریعت‘‘جلد دوم صَفْحَہ 53 پر صدرُ الشَّریعہ،بدرُ الطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولانامفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں :کفو کے یہ معنی ہیں کہ مرد عورت سے نسب وغیرہ میں اتنا کم نہ ہو کہ اس سے نکاح عورت کے اولیا کے لیے باعث ِ ننگ و عار (بے عزتی ورسوائی کاسبب) ہو، کفائت (حسب ونسب میں ہم پلہ ہونا) صرف مرد کی جانب سے معتبر ہے عورت اگرچہ کم درجہ کی ہو اس کا اعتبار نہیں۔ (الدرالمختار‘‘و’’ردالمحتار‘‘،کتاب النکاح،باب الکفاء ۃ،ج۴،ص۱۹۴)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع