30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
{10}…سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگارصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ نصیحت نشان ہے:’’مال و جاہ کی محبت دل میں اسی طرح نفاق پیدا کرتی ہے جس طرح پانی سبزیاں پیدا کرتا ہے۔‘‘ (۱)
یعنی بعض اوقات انسان کو امرا کے پاس جانا پڑتا اور ان کی مراعات اور دِکھلاوے کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔ اگر ان کے پاس مجبوراً جانا پڑے مثلاً کسی کمزور کے چھٹکارے کے لئے، ان کے پاس جائے بغیر اس کی گلوخلاصی کی امید نہ ہو اور تعریف نہ کرنے کی وجہ سے ان کا خوف ہو تو وہ معذور ہے کیونکہ شر (یعنی برائی) سے بچنا جائز ہے۔ حضرت سیِّدُنا ابو درداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ’’ہم لوگوں کے سامنے تو ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں یعنی ان سے مسکرا کر ملتے ہیں لیکن ہمارے دل ان پر لعنت بھیج رہے ہوتے ہیں۔‘‘ (۲) اور حدیث ِ پاک گزر چکی ہے کہ،
{11}… حاضری کا اذن طلب کرنے والے ایک شخص کے متعلق سیِّدعالم ،نُورِمجسَّم صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:’’اسے اجازت دے دو، یہ برے معاملے والاہے ۔‘‘(اس کے جانے کے بعد) اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْھَا نے استفسار کیا تو آپ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:’’بے شک لوگوں میں سب سے برا وہ ہے جس کے شر سے بچنے کے لئے اس کی عزت کی جاتی ہے۔‘‘ (۳)
یہ حدیث ِ پاک خندہ پیشانی اور مسکرا کر ملنے کے باب سے تعلق رکھتی ہے، بہرحال کسی کے شر سے بچنے کے لئے اس کی تعریف کرنا ایک کھلا جھوٹ ہے جو کسی حاجت کے وقت یا بالخصوص کسی کے انتہائی مجبورکرنے پر ہی جائز ہے۔ منافقت کی ایک علامت یہ ہے کہ کوئی ناحق بات سنے تواس کی تصدیق یا تائید کرے مثلاً سر کو حرکت دے۔ اس پر لازم ہے کہ اپنے ہاتھ سے جھٹک دے اور (اس کی طاقت نہ ہو تو) زبان سے روکے اور (اس کی بھی طاقت نہ ہو تو) دل میں برا جانے۔ (۴)
۞۞۞۞۞۞۞
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…احیاء علوم الدین ،کتاب آفات اللسان ،الآفۃ السابعۃ عشرۃ کلام ذی اللسانین…الخ ،ج۳،ص۱۹۷۔
2…صحیح البخاری،کتاب الادب ،تحت باب المداراۃ مع الناس،ص۵۱۷۔
3…صحیح البخاری ،کتاب الادب ،باب المداراۃ مع الناس ،الحدیث:۶۱۳۱،ص۵۱۷۔
سنن ابی داود،کتاب الادب، باب فی حسن العشرۃ، الحدیث:۴۷۹۳،ص۱۵۷۶۔
4…احیاء علوم
الدین ،کتاب آفات اللسان ،الآفۃ السابعۃ عشرۃ کلام ذی اللسانین…الخ ،ج۳،ص۱۹۷مفھوماً۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع