30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
لوگوں نے عرض کی:’’اِمَّعَہ سے کیا مراد ہے؟‘‘ تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا: ’’جو ہر ہوا کے ساتھ چل پڑتا ہے۔ (یعنی بغیر سوچے سمجھے ہر کسی کی بات پر عمل کرنے لگ جاتا ہے)۔‘‘
حضرت سیِّدُنا امام غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِی(متوفی۵۰۵ھ) ارشاد فرماتے ہیں :’’علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ دو آدمیوں سے دو رخی ہو کر ملنا نفاق ہے۔ نفاق کی کئی علامتیں ہیں اوریہ بھی ان میں سے ایک ہے۔‘‘
اعتراض: آدمی کیسے دو زبانوں والا ہو سکتا ہے؟ اور اس کی تعریف کیا ہے؟‘‘
جواب:جب کوئی شخص دو ایسے افراد کے پاس جائے جو ایک دوسرے کے دشمن ہوں اور دونوں میں سے ہر ایک کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آئے اور وہ اس میں سچا ہو تو وہ منافق ہے نہ دو زبانوں والا۔ کیونکہ ایک شخص کبھی باہم دو دشمنوں کا دوست بھی ہوتا ہے لیکن اس کی یہ دوستی کمزور اور ضعیف ہوتی ہے جو اخوت و بھائی چارے کی حد تک نہیں پہنچ پاتی۔ کیونکہ اگر اس کی یہ دوستی پختہ ہوتی تو اس بات کا تقاضا کرتی کہ دوست کا دشمن اس کا بھی دشمن ہے۔ ہاں ! اگر اس نے دونوں میں سے ہر ایک کی بات دوسرے تک پہنچائی تو وہ دو زبانوں والا شمار ہو گا۔ اوریہ فعل چغلی سے زیادہ برا ہے کیونکہ وہ دونوں میں سے کسی ایک کو کچھ بتانے سے ہی چغل خور بن جائے گا اور جب دوسرے کو بھی کچھ بتایا تو اس نے چغلی پر بھی زیادتی کی اور اگر اس نے ا ن میں سے کسی کو کوئی بات تو نہ بتائی البتہ! ان دونوں کی ایک دوسرے کے ساتھ دشمنی کو اچھا سمجھا تو تب بھی دو زبانوں والا کہلائے گا اور اسی طرح اگر اس نے دونوں میں سے ہر ایک کے ساتھ وعدہ کیا کہ وہ اس کی مدد کرے گا یا اس نے موازنہ کرتے ہوئے ہر ایک کی تعریف کی یا پھر ایک کی موجودگی میں تو اس کی تعریف کی لیکن جب اس سے علیحدہ ہوا تو اس کی مذمت کی تو ان تمام صورتوں میں وہ دو زبانوں والا کہلائے گا۔ (۱)
حضرت سیِّدُنا عبداللہبن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاکے حوالے سے گزر چکا ہے کہ بادشاہ کی موجودگی میں اس کی تعریف کرنا اور اس کی عدم موجودگی میں مذمت کرنا نفاق ہے۔ اس کی صورت یہ بنے گی کہ اگر اسے بادشاہ کے پاس جانے اور اس کی تعریف کرنے کی ضرورت نہ ہو اور نہ ہی اس سے مال و عزت ملنے کی توقع ہو اورپھرجب مال وجاہ میں سے کسی ایک ضرورت کی وجہ سے بادشاہ کے پاس جائے اور اس کی تعریف کرے تو وہ منافق ہے اور حدیث ِ پاک کا یہی معنی ہے۔ چنانچہ،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…احیاء علوم الدین ،کتاب آفات اللسان ،الآفۃ السابعۃ عشرۃ کلام ذی اللسانین…الخ ،ج۳،ص۱۹۶۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع