30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
{5}…حُسنِ اَخلاق کے پیکر،محبوبِ رَبِّ اَکبرصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عبرت نشان ہے:’’جس کی دو زبانیں ہوں گی اللہ عَزَّوَجَلَّ بروزِ قیامت اس کی آگ کی دوزبانیں بنا دے گا۔‘‘ (۱)
تنبیہ:
پہلی دو صحیح حدیثوں کی بنا پر دورُخے پن کو کبیرہ گناہوں میں شمار کیا گیا ہے۔ علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام نے اس لئے اسے علیحدہ ذکر نہیں کیا کیونکہ انہوں نے اسے چغلی میں داخل سمجھا مگر اسے مطلقًا کبیرہ قرار دینا محلِ نظر ہے۔ حضرت سیِّدُنا امام ابوحامد محمد بن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِی(متوفی۵۰۵ھ) ارشاد فرماتے ہیں :’’دو زبانوں والا وہ شخص ہے جو ایسے دوآدمیوں کے درمیان جاتا ہے جوباہم دشمن ہیں اور وہ(منافق) ہر ایک سے اس کے موافق بات کرتا ہے اورایسا بہت کم ہوتا ہے کہ یہ دوباہم عداوت رکھنے والوں کے پاس جائے اور ایسا نہ کرے ۔ وہ اس صفت سے متصف ہوتا ہے اور یہ حقیقی نفاق ہے۔‘‘
{6}…حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن،رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْنصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:’’تم قیامت کے دن لوگوں میں سب سے برا اس شخص کو پاؤ گے جو اِس کے پاس یہ بات کہتا ہے اور اُس کے پاس وہ بات کہتا ہے۔‘‘ (۲)
{7}… ایک روایت کے الفاظ کچھ یوں ہیں : ’’اِس کے پاس اِس چہرے سے اور اُس کے پاس اُس چہرے سے آتا ہے۔‘‘ (۳)
{8}…حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ارشاد فرماتے ہیں : ’’دو چہروں والا اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نزدیک امین نہیں ہو سکتا۔‘‘(۴)
{9}…حضرت سیِّدُنا عبداللہبن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ارشاد فرماتے ہیں کہ’’تم میں سے کوئی اِمَّعَہ نہ ہو۔‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…المعجم الاوسط،الحدیث:۸۸۸۵،ج۶،ص۳۱۳۔
2…المسندللامام احمدبن حنبل،مسندابی ہریرۃ،الحدیث:۱۰۴۳۲،ج۳،ص۵۵۶،بتغیرٍقلیلٍ۔
3…صحیح البخاری،کتاب الادب،باب ما قیل فی ذی الوجہین، الحدیث:۶۰۵۸،ص۵۱۲۔
4…الکامل فی
ضعفاء الرجال،الرقم۱۶۰۳کثیربن زید،ج۷،ص۲۰۵۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع