30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کبیرہ نمبر253: دو رُخا ہونا
دورُخے پن کی مذمت پر احادیث ِمبارکہ:
{1}…حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ سیِّدُالْمُبَلِّغِیْن،رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْنصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:’’تم مختلف قسم کے لوگوں کو پاؤ گے۔ ان میں سے جو زمانۂ جاہلیت میں بہتر تھے جب انہوں نے اسلام کو سمجھ لیا تو اسلام میں بھی بہتر ہو گئے۔ تم لوگوں میں سے بہترین ان لوگوں کو پاؤ گے جو اس حالت میں (یعنی اسلام لانے کے بعد) اس چیز (یعنی منافقت)کو سخت ناپسند کرتے ہیں اور تم لوگوں میں بدترین دو چہروں والے کو پاؤ گے جو ایک چہرے کے ساتھ اِس کے پاس آتا ہے اور دوسرے چہرے کے ساتھ اُس کے پاس جاتا ہے۔‘‘ (۱)
{2}…حضرت سیِّدُنا محمد بن زید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے، کچھ لوگوں نے میرے دادا حضرت سیِّدُناعبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاکی خدمت میں عرض کی: ’’ہم اپنے بادشاہوں کے پاس جا کر ان باتوں کے برعکس کہتے ہیں جو ہم ان سے جدا ہو کر کہتے ہیں۔‘‘ تو حضرت سیِّدُناعبداللہبن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَانے ارشادفرمایا:’’ہم اس (عمل)کو زمانۂ رسالت مآب میں منافقت شمار کر تے تھے۔‘‘ (۲)
{3}…حضرت سیِّدُناسعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روا یت ہے کہ میں نے شَفِیْعُ الْمُذْنِبِیْن،اَنِیْسُ الْغَرِیْبِیْنصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو ارشاد فرماتے سنا: ’’دو چہروں والا (یعنی منافق) قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کے آگ کے (بنے ہوئے) دو چہرے ہوں گے۔‘‘ (۳)
{4}…اللہ عَزَّوَجَلَّ کے مَحبوب، دانائے غُیوب،منزہ عن الْعُیوبصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عبرت نشان ہے:’’جس کے دنیا میں دو چہرے ہوں گے قیامت کے دن اس کی آگ کی دو زبانیں ہوں گی۔‘‘ (۴)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…صحیح البخاری ،کتاب المناقب ،باب المناقب ،الحدیث:۳۴۹۳،۳۴۹۴،ص۲۸۵۔
2…صحیح البخاری ،کتاب الاحکام ،باب ما یکرہ من ثناء السلطان۔۔الخ،الحدیث:۷۱۷۸،ص۵۹۸۔
مسند ابی داود الطیالسی ، الحدیث:۱۹۵۵،ص۲۶۴۔
3…المعجم الاوسط،الحدیث:۶۲۷۸،ج۴،ص۳۷۰۔
4…سنن ابی داود،کتاب الادب،باب فی ذی الوجھین،الحدیث:۴۸۷۳،ص۱۵۸۰ ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع