30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اپنے اس فرمانِ عالیشان سے اشارہ فرمایا: یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنۡ جَآءَکُمْ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَیَّنُوۡۤا اَنۡ تُصِیۡبُوۡا قَوْمًۢا بِجَہٰلَۃٍ فَتُصْبِحُوۡا عَلٰی مَا فَعَلْتُمْ نٰدِمِیۡنَ ﴿۶﴾ (پ۲۶،الحجرات:۶)
ترجمۂ کنزالایمان:اے ایمان والو! اگرکوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبرلائے توتحقیق کرلوکہ کہیں کسی قوم کوبے جانے ایذانہ دے بیٹھو پھر اپنے کئے پر پچتاتے رہ جاؤ۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ اپنے فضل و کرم سے ہمیں اس لعنت سے محفوظ فرمائے۔ (آمین)
تَنْبِیْہَات
تنبیہ1:
علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامکا اتفاق ہے کہ چغلی کھانا کبیرہ گناہ ہے اور اس کی تصریح گزشتہ صحیح حدیث ِ پاک میں یوں کی گئی ہے: ’’ہاں ! یہ کبیرہ گناہ ہے۔‘‘ حضرت سیِّدُنا امام زکی الدین عبد العظیم منذری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی (متوفی۶۵۶ھ) فرماتے ہیں : ’’امت کا اس پر اجماع ہے کہ چغل خوری حرام ہے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ہاں بہت بڑا گناہ ہے۔‘‘ (۱)
اعتراض:جب حدیث ِ پاک میں ہے کہ’’مَا یُعَذَّبَانِ فِیْ کَبِیْر یعنی انہیں کسی بڑے گناہ کی وجہ سے عذاب نہیں ہو رہا۔‘‘ تو آپ چغلی کو کیسے کبیرہ گناہ کہتے ہیں ؟
جواب:علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامنے اس کے کئی جوابات دئیے ہیں۔ جن میں سے چند یہ ہیں : (۱)…اس کا چھوڑنا اور اس سے بچنا کوئی بڑی بات نہیں (۲)…یہ تمہارے اعتقاد میں بڑا نہیں۔ جیسا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ قرآنِ مجید میں ارشادفرماتا ہے:
وَ تَحْسَبُوۡنَہٗ ہَیِّنًا ٭ۖ وَّ ہُوَ عِنۡدَ اللہِ عَظِیۡمٌ ﴿۱۵﴾ (پ۱۸، النور:۱۵)
ترجمۂ کنزالایمان:اوراسے سہل سمجھتے تھے اور وہ اللہ کے نزدیک بڑی بات ہے۔
(۳)…یا اس سے مرادیہ ہے کہ یہ سب سے بڑا گناہ نہیں۔ اس پر بخاری شریف کی سابقہ حدیث ِ پاک بھی دلالت کرتی ہے کہ’’ہاں ! یہ کبیرہ گناہ ہے۔‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…الترغیب
والترھیب،کتاب الادب،باب الترہیب من النمیمۃ،تحت الحدیث:۴۳۳۰،ج۳،ص۳۹۴۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع