دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1) | (جہنم میں لے جانے والے اعمال (جلد-اوّل

book_icon
(جہنم میں لے جانے والے اعمال (جلد-اوّل

کبیرہ نمبر18:          فریب کاری

کبیرہ نمبر19:          ناکردہ عمل پرتعریف کاخواہاں ہونا

کبیرہ نمبر20:          اپنے عیوب بُھلا کرلوگوں کے عیوب کی جستجومیں رہنا

کبیرہ نمبر21:          نعمت کو فراموش کر دینا

کبیرہ نمبر22:           دینِ اسلام کے خلاف کسی کی طرف داری کرنا

کبیرہ نمبر23:          شکر ادا نہ کرنا

کبیرہ نمبر24:          تقدیر پر راضی نہ رہنا

کبیرہ نمبر25:          انسان کا حقوق اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اور فرض احکام کو ہلکا جاننا

کبیرہ نمبر26:          اللّٰہعَزَّ وَجَلَّ کے بند وں کا مذاق اڑانا،ان کودھتکارنا اورحقیرجاننا

کبیرہ نمبر27:          حق سے منہ پھیرنا اور نفسانی خواہشات کی پیروی کرنا

کبیرہ نمبر28:          مکراور دھوکا دہی سے کام لینا

کبیرہ نمبر29:          دنیاوی زندگی کو مطمحِ نظر بنا لینا

کبیرہ نمبر30ـ:         حق بات سے عناد رکھنا

کبیرہ نمبر31:          مسلمان سے بدگمانی رکھنا

کبیرہ نمبر32:          حق کوقبول نہ کرنا اس وجہ سے کہ وہ خواہش نفسانی کے خلاف ہو یا پھر نا پسند یدہ اورمبغوض شخص سے ظاہر ہو

کبیرہ نمبر33:          بندے کا گناہ پر خوش ہونا

کبیرہ نمبر34:          گناہ پر اصرار کرنا

کبیرہ نمبر35:          نیکی پرتعریف کا خواہاں ہونا

کبیرہ نمبر36:          دنیاوی زندگی پرراضی اور مطمئن رہنا

کبیرہ نمبر37:          اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اور آخرت کو بھلادینا

کبیرہ نمبر38:          نفس کے لئے غصہ کرنا اور اس کی با طل ذرائع سے مدد کرنا

                بعض متأخرین ائمہ کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰینے پانچ سے لے کراڑتیس (38) تک مندرجہ بالا تمام گناہوں کے باہم ایک دوسرے میں کثیر تداخل کے باوجود علیحدہ علیحدہ کبیرہ گناہ ہونے کی تصریح فرمائی ہے، یہ ائمہ کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیفقہ ومعرفت، علم وعمل، ہدایتِ سالکین اور تربیتِ مریدین، ظاہری کرامات اور بیشماراعلیٰ احوال واخلاق کے جامع تھے، چنانچہ اس بحث کی ابتدا میں فرماتے ہیں کہ جہاں تک باطنی کبائر کا تعلق ہے تو مکلف پران باطنی کبائرکی معرفت حاصل کرنا واجب ہے تا کہ وہ ان کو زائل کرنے کی کوشش کر سکے، کیونکہ جس کے دل میں ان میں سے ایک بھی مرض ہو گا وہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّکی بارگاہ میں قلبِ سلیم لے کر حاضر نہ ہو سکے گا۔اَلْعَیَاذُبِاللّٰہِ۔

            ان باطنی امراض میں مَعَاذَ اللّٰہ کفر، نفاق، تکبر، فخر، غرور، حسد، خیانت، کینہ پروری، ظلم کرنا اور غیراللّٰہ کے لئے ناراض ہونا یا غیراللّٰہ کے لئے غصہ کرنا، ریاکاری یا شہرت کے لئے عمل کرنا، ملاوٹ کرنا، بددیانتی، بخل، اور حق سے منہ پھیرنا وغیرہ شامل ہیں ۔پھراس کے بعدفرماتے ہیں :  ’’ ان جیسے گناہوں پربندے کی مذمت کرنا اس کے زنا، چوری، شراب نوشی اور ان جیسے دیگربدنی کبیرہ گناہوں پر مذمت کئے جانے سے بھی عظیم ہے کیونکہ اس کافساد زیادہ اور نتیجہ برا اور دائمی ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ ان جیسے کبیرہ گناہوں کا اثر حالت اور کیفیت بن کر دل میں راسخ ہو جاتا ہے جبکہ دیگربدنی گناہوں کے اثرات جلد زائل ہو جاتے ہیں مثلاًکبھی توبہ واستغفارکے ذریعے تو کبھی گناہ مٹا دینے والی نیکی کے ذریعے زائل ہوجاتے ہیں اور بسا اوقات کوئی مصیبت وپریشانی ان گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہے۔

{1}…اللّٰہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب ،، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب عَزَّ وَجَلَّ  و صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:   ’’ بے شک جسم میں خون کا ایک لوتھڑا ہے، جب یہ درست ہو جائے تو سارا جسم درست ہو جائے گا اور جب یہ بگڑ جائے تو سارا جسم بگڑ جائے گا، سن لو!  وہ دل ہے۔ ‘‘  

 (صحیح البخاری،کتاب الایمان،باب فصل من استبرألدینہ،الحدیث: ۵۲،ص۶)

{2}…دل سارے اعضاء کا بادشاہ ہے اور دیگراعضاء اس کے لشکراور تابع ہیں ، جب بادشاہ بگڑ جائے تو سارا لشکربگڑ جاتا ہے، جیسا کہ حضرت سیدنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  نے ارشاد فرمایا :  ’’ دل بادشاہ ہے جبکہ دیگر اعضاء اس کے لشکر ہیں ، جب بادشاہ اچھا ہو تو فوج بھی اچھی ہوتی ہے اور جب بادشاہ ہی خبیث ہو جائے تو فوج بھی خبیث ہو جاتی ہے۔ ‘‘

                لہٰذاجسے ان امراض سے محفوظ دل عطا کیا گیا ہو اسے چاہئے کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّکا شکر ادا کرے اور جو اپنے دل میں ان میں سے کوئی مرض پائے اس پر اس بیماری کے زائل ہو جانے تک اس کا علاج کرنا واجب ہے، اگروہ اس کاعلاج نہ کرے گاتو گناہ گار ہو گا اور ان امراض کی موجودگی میں بندہ اسی صورت میں گناہ گارہوتاہے جب کہ وہ کسی گناہ کی نیت اور ارادہ اپنے دل میں کرے، محض دل میں خیال آنے یاسبقتِ لسانی سے زبان سے نکل جانے سے گناہ گار نہیں ہوتا۔

                ان تمام گناہوں کو کبیرہ کہنافقط اہلِ تصوف ومعرفت کے طریقہ کے مطابق ہے اور امام ِفقیہ انہی بزرگوں میں سے ہیں اسی لئے آپ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہنے اپنے اہل مذہب علمائے شافعیہ کے خلاف کلام کیا البتہ ان گناہوں میں بعضمُتَّفَقْ علیہ کبیرہ گناہ بھی ہیں جیسے حسد، کینہ، ریاکاری، شہرت کے لئے عمل کرنا، تکبر اور خودپسندی وغیرہ جن کا ذکر ہو چکا ہے، اسی طرح اور بہت سے گناہ ایسے ہیں جنہیں کبیرہ کہاجاسکتاہے اور یہ آپ عنقریب جان لیں گے جب ہم ان کے بارے میں سخت وعیدپردلالت کرنے والی احادیث بیان کریں گے۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن