30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دل دوبارہ اپنے فطری میلان کی جانب مائل ہو جاتا ہے اور شیطان اسے وسوسوں کے ذریعے بھڑکانے لگتا ہے، اور پھر جب کبھی انسان اپنے دل کو ناپسندیدگی کے مقابل لا کھڑا کرے تو اپنے حقوق ادا کرنے کے قابل ہو جاتاہے۔
سوال: کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ جب تک حسد کا اظہار اعضا سے نہ ہو بندہ گناہ گار نہیں ہوتا اور اپنے اس قول کی دلیل یہ دیتے ہیں کہ،
{116}…حضور نبی ٔ پاک ، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ تین عادتیں ایسی ہیں کہ کوئی بھی مؤمن ان سے بچ نہیں سکتا حالانکہ ان سے بچنے کا ایک راستہ بھی ہے، پس حسد سے چھٹکارے کا راستہ یہ ہے کہ انسان حد سے نہ بڑھے۔ ‘‘
جواب: یہ قول یا تو ضعیف ہے اور یا پھر انتہائی شاذ، کیونکہ حق بات وہی ہے جو گذشتہ صفحات میں گزر چکی کہ حسد مطلقاً حرام ہے، حدیثِ پاک میں بیان کردہ صورت کی وجہ سے اگر ان کی بات صحیح مان بھی لیں تو پھر بھی حدیثِ پاک کو اس بات پر محمول کریں گے کہ جب حسد کو دشمن کی نعمت کے زوال چاہنے کے فطری میلان کے مقابل رکھا جائے تو دینی اور عقلی اعتبار سے بھی یہ ایک ناپسندیدہ فعل ہی ہے، اور یہی ناپسندیدگی ہی تو انسان کو بغاوت وسرکشی اور ایذا رسانی سے روکتی ہے، نیز ہر حاسد اور اس کے گناہ کی مذمت میں کئی ایک روایات بیان کی جاچکی ہیں ، حسد تو حقیقتاً ہوتا ہی دل میں ہے تو پھر کیسے کسی کے لئے یہ جائز ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کی برائی بھی چاہے جبکہ اس کا دل اپنے بھائی کی اس مصیبت کو ناپسند بھی کرتا ہو؟
غصہ پینے اور عفوودرگزر کے فضائل
{۱}اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے:
وَ الْكٰظِمِیْنَ الْغَیْظَ وَ الْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِؕ-وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَۚ (۱۳۴) (پ۴، آل عمران: ۱۳۴)
ترجمۂ کنز الایمان : اور غصہ پینے والے اور لوگوں سے در گذر کرنے والے اور نیک لوگ اللہ کے محبو ب ہیں ۔
{۲}
خُذِ الْعَفْوَ وَ اْمُرْ بِالْعُرْفِ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْجٰهِلِیْنَ (۱۹۹) (پ۹، الاعراف: ۱۹۹)
ترجمۂ کنز الایمان : اے محبو ب معا ف کرنا اختیار کرو اور بھلائی کاحکم دو اور جاہلوں سے منہ پھیر لو۔
{۳}
وَ لَا تَسْتَوِی الْحَسَنَةُ وَ لَا السَّیِّئَةُؕ-اِدْفَعْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِیْ بَیْنَكَ وَ بَیْنَهٗ عَدَاوَةٌ كَاَنَّهٗ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ (۳۴) وَ مَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْاۚ-وَ مَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا ذُوْ حَظٍّ عَظِیْمٍ (۳۵) (پ۲۴،حٰم ٓ السجدۃ: ۳۴۔۳۵)
ترجمۂ کنز الایمان : اور نیکی اور بدی برابر نہ ہوجائیں گی اے سننے والے برائی کو بھلائی سے ٹال جبھی وہ کہ تجھ میں اور اس میں دشمنی تھی ایسا ہوجائے گا جیسا کہ گہرا دوست اور یہ دولت نہیں ملتی مگرصابروں کو اور اسے نہیں پاتا مگر بڑے نصیب والا۔
{۴}
وَ لَمَنْ صَبَرَ وَ غَفَرَ اِنَّ ذٰلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ۠ (۴۳) (پ۲۵، الشورء: ۴۳)
ترجمۂ کنز الایمان : اور بے شک جس نے صبر کیا اور بخش دیا تو یہ ضرو رہمت کے کام ہیں ۔
{۵}
فَاصْفَحِ الصَّفْحَ الْجَمِیْلَ (۸۵) (پ۱۴، الحجر: ۸۵)
ترجمۂ کنز الایمان : تو تم اچھی طرح در گزر کرو۔
{۶}
وَ لْیَعْفُوْا وَ لْیَصْفَحُوْاؕ-اَلَا تُحِبُّوْنَ اَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَكُمْؕ- (پ۱۸، النور: ۲۲)
ترجمۂ کنز الایمان : اور چاہئے کہ معا ف کریں اور در گزرکریں کیاتم اسے دو ست نہیں رکھتے کہ اللہ تمہاری بخشش کرے۔
{۷}
وَ اخْفِضْ جَنَاحَكَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ (۸۸) (پ۱۴، الحجر: ۸۸)
ترجمہ کنزالایمان: اور مسلمانوں کو اپنے رحمت کے پروں میں لے لو۔
ان کے علاوہ بھی کئی آیاتِ مقدسہ ان فضائل پر مبنی ہیں ۔
{117}…اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب ، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب عَزَّ وَجَلَّ و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا نے ارشاد فرمایا: ’’ بے شک اللہ عَزَّ وَجَلَّ ایسا نرمی فرمانے والاہے کہ ہرکام میں نرمی کوپسند فرماتا ہے۔ ‘‘
(صحیح البخاری، کتاب استتابۃ المرتدین،باب اذا عرض الذمی…الخ،الحدیث: ۶۹۲۷،ص۵۷۸)
{118}…شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمالصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ آسانی پیدا کرو اور مشکل میں نہ ڈالو اور خوشخبری سناؤ اور متنفِّر نہ کرو۔ ‘‘ (صحیح مسلم،کتاب الجہاد، باب فی الامر بالتسیر…الخ، الحدیث: ۴۵۲۵،ص۹۸۵،بتقدمٍ وتأخرٍ)
{119}…دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوالصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکو جب بھی دوچیزوں میں سے کسی ایک کو اختیار کرنے کا حکم ہوتا تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمدونوں میں سے آسان ترین چیز کو اختیار فرماتے بشرطیکہ وہ گناہ نہ ہو، اگر وہ آسان چیز گناہ ہوتی تو تمام لوگوں سے زیادہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماس سے دوری اختیار فرماتے، رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے کبھی بھی اپنے لئے کسی سے انتقام نہ لیا، مگر جب اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی حرمت کو توڑا جاتا تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے انتقام لیتے۔ ‘‘ (صحیح البخاری،کتاب الادب،باب قول النبی یسروا…الخ،الحدیث: ۶۱۲۶،ص۵۱۶)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع