30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱۲۶۹۷،ج۴،ص۳۳۲)
{82}… حضرت سیدنا عبداللہ بن عمرو رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : ’’ ہم شفیعِ روزِ شُمار،دو عالَم کے مالک و مختارباِذنِ پروردگار عَزَّ وَجَلَّ وصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں حاضر تھے کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ ابھی اس دروازے سے ایک جنتی آدمی تمہارے سامنے ظاہر ہو گا۔ ‘‘ تو حضرت سیدنا سعد بن مالک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ دروازے سے اندر داخل ہوئے۔ ‘‘
امام بیہقی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہنے جوحدیث مبارکہ بیان کی ، اس میں یوں ہے: حضرت سیدناعبداللہ بن عمرو رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے ارادہ کر لیا کہ میں اس شخص کے ساتھ رات گزاروں گا تا کہ اس کا عمل دیکھ سکوں ،پھر انہوں نے حضرت سیدنا سعدبن مالک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے گھر اپنے جانے کاذکرکرتے ہوئے فرمایا : ’’ انہوں نے مجھے ایک عباء یعنی بچھونا دیا جس پر میں ان سے قریب ہو کر لیٹ گیا اور اپنی آنکھوں کی جھریوں سے انہیں دیکھنے لگا، وہ جب بھی کروٹ بدلتے، سُبْحَانَ اللّٰہِ، اَللّٰہُ اَکْبَرُ،لَآاِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُاوراَلْحَمْدُلِلّٰہِ کہتے، یہاں تک کہ جب سحری کا وقت ہوا تو وہ اٹھے اور وضو کر کے مسجد میں داخل ہوئے اور 12درمیانی سورتوں کے ساتھ 12 رکعتیں ادا کیں کہ نہ تو وہ لمبی تھیں اور نہ ہی چھوٹی، اور ہردو رکعتوں میں تَشَھُّد سے فارغ ہونے کے بعد یہ تین دعائیں مانگیں :
(۱) اَللّٰھُمَّ رَبَّنَآاٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّفِی الْاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ۔
(یعنی اے ہمارے پروردگار عَزَّ وَجَلَّ ! ہمیں دنیا اور آخرت کی بھلائیاں عطا فرما اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔)
(۲) اَللّٰھُمَّ اکْفِنَامَآاَھَمَّنَا مِنْ اَمْرِ آٰخِرَتِنَا وَدُنْیَانَا۔
(یعنی اے ہمارے پروردگار عَزَّ وَجَلَّ ! ہمارے دنیا اور آخرت کے اہم کاموں کو پورا فرما۔)
(۳) اَللّٰھُمَّ اِنَّانَسْاَلُکَ مِنَ الْخَیْرِ کُلِّہٖ وَنَعُوْذُ بِکَ مِنَ الشَّرِّکُلِّہٖ۔
(یعنی اے پروردگار عَزَّ وَجَلَّ ! ہم تجھ سے ہر قسم کی بھلائیوں کا سوال کرتے ہیں اور ہر قسم کے شر سے تیری پناہ مانگتے ہیں ۔)
ان کے اس مستقل عمل کو ذکر کرنے کے بعدروایت کے آخر میں یہ ہے کہ انہوں نے فرمایا: ’’ جب میں سونے کے لئے اپنے بستر پر آتا ہوں تو میرے دل میں کسی مسلمان کے لئے کینہ نہیں ہوتا۔ ‘‘
(شعب الایمان ، باب فی الحث علی ترک الغل والحسد، الحدیث: ۶۶۰۷،ج۵،ص۲۶۶)
{83}…حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرعَزَّ وَجَلَّ وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ تنگدستی کفر کے قریب پہنچا دیتی ہے اور حسد تقدیر پر غلبہ پانے کے قریب کردیتا ہے۔ ‘‘
(کنزالعمال ، کتاب الزکاۃ ، قسم الاقوال، باب فی فضل الفقر…الخ،الحدیث: ۱۶۶۷۸،ج۶،ص۲۱۰)
{84}…دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوالصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ عنقریب میری اُمت کو پچھلی اُمتوں کی بیماری لاحق ہو گی۔ ‘‘ صحابہ کرام عَلَيهِمُ الّرِضْوَان نے عرض کی : ’’ پچھلی اُمتوں کی بیماری کیا ہے؟ ‘‘ تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ تکبر کرنا، اِترانا، کثرت سے مال جمع کرنا اور دنیا میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانا نیز آپس میں بغض وحسد رکھنا یہاں تک کہ وہ ظلم میں تبدیل ہوجائے اور پھر فتنہ وفساد بن جائے۔ ‘‘ (المعجم الاوسط، الحدیث: ۹۰۱۶،ج۶،ص۳۴۸،بدون ’’ تباغضواوتحاسدوا ‘‘ )
{85}…نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ مجھے اپنی اُمت پر سب سے زیادہ اس بات کاخوف ہے کہ ان کے پاس مال کی کثرت ہوجائے گی تو یہ لوگ آپس میں حسد کرنے اور ایک دوسرے کو قتل کرنے لگیں گے، پھر آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’ حاجتوں کو پورا کرنے کے لئے نعمتیں چھپا کر مدد چاہو کیونکہ ہر ذی نعمت سے حسد کیاجاتا ہے ۔ ‘‘
(المعجم الکبیر، الحدیث: ۱۸۳،ج۲۰،ص۹۴)
{86}…رسولِ اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نعمتوں کے بھی دشمن ہوتے ہیں ۔ ‘‘ عرض کی گئی : ’’ وہ کون ہیں ؟ ‘‘ تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’ وہ جو لوگوں سے اس لئے حسد کرتے ہیں کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنے فضل وکرم سے اُن کو نعمتیں عطا فرمائی ہیں ۔ ‘‘ (شعب الایمان ، باب فی الحث علی ترک الغل والحسد، الحدیث تحت الباب،ج۵،ص۲۶۳)
{87}…حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرعَزَّ وَجَلَّ وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ چھ قسم کے لوگ حساب سے ایک سال پہلے جہنم میں داخل ہوجائیں گے۔ ‘‘ عرض کی گئی: ’’ یارسول اللہ عَزَّ وَجَلَّوصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم! وہ کون لوگ ہیں ؟ ‘‘ تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’ (۱) اُمراء ظلم کی وجہ سے (۲) عرب عصبیت (یعنی طرف داری) کی وجہ سے (۳) رؤسا اور سردار تکبر کی وجہ سے (۴) تجارت کرنے والے خیانت کی وجہ سے (۵) دیہاتی لوگ جہالت کی وجہ سے اور (۶) علما ء حسد کی وجہ سے۔ ‘‘ (کنزالعمال،کتاب الاخلاق،قسم الاقوال ،الحدیث: ۴۴۰۲۴ / ۴۴۰۲۳،ج۱۶، ص۳۷، بتغیرٍقلیلٍ)
{88}…منقول ہے کہ جب حضرت سیدنا موسیٰ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اپنے رب عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو عرش کے سائے میں ایک شخص کو دیکھا، انہیں اس کے مرتبہ پر بڑا رشک آیا اور کہا: ’’ بے شک یہ شخص اپنے رب عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں معزز ہے۔ ‘‘ پھر آپ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے سوال کیا کہ وہ آپ کو اس شخص کا نام بتائے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے آپ کو اس کا نام نہ بتایا بلکہ فرمایا : ’’ میں تمہیں اس کے تین عمل بتاتا ہوں : (۱) یہ ان نعمتوں پر لوگوں سے حسد نہیں کرتاتھا جو میں نے اپنے فضل سے اُنہیں عطا فرمائی تھیں (۲) نہ اپنے والدین کی نافرمانی کرتا اور (۳) نہ ہی چغل خوری کرتا تھا۔ ‘‘ (مکارم اخلاق،باب ماجاء فی صلۃ الرحم،الحدیث: ۲۵۷،ص۱۸۳)
{89}…حضرت سیدنا زکریا عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام فرماتے ہیں کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ارشاد فرمایا : ’’ حاسد میری نعمت کا دشمن، میرے فیصلے پر ناخوش اور میری تقسیم پر ناراض رہتا ہے جومیں نے اپنے بندوں کے درمیان فرمائی ہے۔ ‘‘ (تفسیر ابن ابی حاتم ،باب ۲،ج۴،ص۲۰۳)
ایک بزرگ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع