30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یہ تینوں چونکہ ایک دوسرے کولازم وملزوم ہیں یعنی ان کا ایک دوسرے سے تعلق ہے کیونکہ حسد کینے کا نتیجہ ہے اور کینہ غصے کا نتیجہ ہے، لہٰذا یہ ایک ہی بدخصلت کی طرح ہوئے، اس لئے میں نے انہیں ایک ہی عنوان کے تحت جمع کر دیا ہے کیونکہ ان میں سے ہر ایک کی مذمت دوسرے کی مذمت کو لازم ہے، کیونکہ فرع کی مذمت در حقیقت اصل کی مذمت ہے اور اصل کی مذمت فرع کی مذمت ہے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے:
اِذْ جَعَلَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِیْ قُلُوْبِهِمُ الْحَمِیَّةَ حَمِیَّةَ الْجَاهِلِیَّةِ فَاَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِیْنَتَهٗ عَلٰى رَسُوْلِهٖ وَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ اَلْزَمَهُمْ كَلِمَةَ التَّقْوٰى وَ كَانُوْۤا اَحَقَّ بِهَا وَ اَهْلَهَاؕ- (پ۲۶، الفتح: ۲۶)
ترجمۂ کنز الایمان : جب کہ کافروں نے اپنے دلوں میں اَڑرکھی وہی زمانہ جاہلیت کی اڑ (ضد) تو اللہ نے اپنا اطمینان اپنے رسول اور ایمان والوں پر اُتا ر ا اور پر ہیز گا ر ی کا کلمہ ان پر لازم فرمایا اور وہ اس کے زیادہ سزاوار اور اس کے اہل تھے۔
اس آیت مبارکہ میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ناحق غصہ کے سبب صادر ہونے والی نخوت ومروّت ظاہر کرنے پر کفار کی مذمت فرمائی اور مسلمانوں کو نخوت ومروّت سے بچانے والے اطمینان اورسکینہ نازل کرنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے ان کی مدح فرمائی ہے کہ انہوں نے پرہیز گاری کولازم پکڑلیا ہے،اس لئے وہ اس کے اہل اورمستحق ٹھہرے ہیں ۔
ایک دوسری جگہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکا فرمانِ عالیشان ہے:
اَمْ یَحْسُدُوْنَ النَّاسَ عَلٰى مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖۚ- (پ۵، النسآء: ۵۴)
ترجمۂ کنز الایمان : یالوگوں سے حسد کرتے ہیں اس پر جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دیا۔
{1}… اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب،، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب عَزَّ وَجَلَّ وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ غصہ شیطان کی طرف سے ہوتا ہے اور چونکہ شیطان آگ کی پیدائش ہے اور پانی آگ کو بجھا دیتا ہے لہٰذا جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے تو اسے چاہئے کہ وہ غسل کرے۔ ‘‘ (جامع الاحادیث،الحدیث: ۱۴۶۸۵،ج۶،ص۲۵۳)
{2}… شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمالصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ غصہ سے اجتناب کرو۔ ‘‘
(المسندللامام احمد بن حنبل،حدیث رجل من اصحاب النبی،الحدیث: ۲۳۵۲۸،ج۹،ص۱۲۳)
{3}… دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوالصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے کہ ’’ جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے تو اسے چاہئے کہ اَعُوْذُ بِاللّٰہپڑھ لے اس کا غصہ ختم ہوجائے گا۔ ‘‘ (الکامل فی ضعفاء الرجال، ج۶،ص۴۵۱، ’’ احدکم ‘‘ بدلہ ’’ رجل ‘‘ )
{4}…رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے تو اسے خاموشی اختیار کرلینی چاہئے۔ ‘‘ (المسندللامام احمد بن حنبل،مسند عبداللہ بن العباس…الخ،الحدیث: ۲۱۳۶،ج۱، ص۵ ۱ ۵)
{5}…نبی ٔ کریم،رء ُوف رحیم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ جب تمہیں غصہ آئے تو بیٹھ جایا کر و ۔ ‘ ‘ (جامع الاحادیث،الحدیث: ۱۶۰۸،ج۱،ص۲۴۱)
{6}… مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیت عَزَّ وَجَلَّ وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے تو اگر وہ کھڑا ہو تو بیٹھ جائے اگر اس سے اس کا غصہ دور ہوجائے تو ٹھیک ورنہ لیٹ جائے۔ ‘‘
(سنن ابی داؤد، کتاب الادب ، باب مایقال عند الغضب ، الحدیث: ۴۷۸۲،ص۱۵۷۵)
{7}… شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکینصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے کہ ’’ غصہ شیطان کی طرف سے ہے لہٰذا جب تم میں سے کسی کو کھڑے ہوئے غصہ آئے تو وہ بیٹھ جائے اور اگر بیٹھے ہوئے آئے تو لیٹ جائے۔ ‘‘
(کنزالعمال،کتاب الاخلاق،قسم الاقوال ، باب الغضب، الحدیث: ۷۷۲۲،ج۳،ص۲۱۰)
{8}… مَحبوبِ ربُّ العٰلَمین، جنابِ صادق و امین عَزَّ وَجَلَّ وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے کہ ’’ جب تمہیں غصہ آئے تو بیٹھ جاؤ اگر پھر بھی رفع نہ ہو تو لیٹ جاؤ وہ جلد رفع ہوجائے گا۔ ‘‘ (جامع الاحادیث،الحدیث: ۲۴۰۰،ج۱،ص۳۵۰)
{9}… تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ تم میں سب سے زیادہ بہادر وہ ہے جو غصہ کے وقت خود پر قابو پالے اورسب سے زیادہ بردبار وہ ہے جو طاقت کے باوجود معاف کر دے۔ ‘‘
(کنزالعمال،کتاب الاخلاق،الحدیث: ۷۶۹۴،ج۳،ص۲۰۷)
{10}…مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ بیشک غصہ شیطان کی طرف سے ہے اور شیطان آگ کی پیدا ئش ہے اور آگ پانی سے بجھتی ہے لہٰذا جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے تو وہ وضو کرلیا کرے۔ ‘‘
(سنن ابی داؤد، کتاب الادب ، باب مایقال عند الغضب ، الحدیث: ۴۷۸۴،ص۱۵۷۵)
{11}…تاجدارِ مدینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ بے شک جہنم میں ایک ایسا دروازہ ہے جس سے وہی شخص
داخل ہوگا جس کا غصہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکی نافرمانی پر ہی ٹھنڈا ہوتاہے۔ ‘‘ (کنزالعمال،کتاب الاخلاق،الحدیث: ۷۶۹۶،ج۳، ص۲۰۸)
{12}… شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’ کیا میں تمہیں تمہارے سب سے بہادر شخص کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ تم میں سب سے بہادر وہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے آپ پر زیادہ قابو پانے والا ہے۔ ‘‘
(مکارم الاخلاق للطبرانی،باب فضل من یملک نفسہ عند الغضب، الحدیث: ۳۷،ص۳۲۵$&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع