30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(کنزالعمال،کتاب الاخلاق،قسم الاقوال ،حرف الزاي، باب الزھد،الحدیث: ۶۰۵۳،ج۳،ص۷۵)
{73}… تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ اچھی نیت بندے کو جنت میں داخل کردیتی ہے۔ ‘‘ (کنزالعمال،کتاب الاخلاق،قسم الاقوال ،حرف النون باب النیۃ،الحدیث: ۷۲۴۵،ج۳،ص۱۶۹)
{74}… مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ اچھی نیت عرش سے چمٹ جاتی ہے پس جب کوئی بندہ اپنی نیت کوسچا کر دیتا (یعنی اپنی نیت کے مطابق عمل کرتا) ہے تو عرش ہلنے لگ جاتا ہے، پھر اس بندے کو بخش دیا جاتا ہے۔ ‘‘ (تاریخ بغداد،القاسم بن الحن،الحدیث: ۶۹۲۶،ج۱۲،ص۴۴۴)
{75}… مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیت عَزَّ وَجَلَّ وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ تعجب کی بات ہے کہ میری اُمت کے کچھ لوگ قریش کے ایک شخص کی (ہلاکت کی) خاطر بیت اللہ شریف کا قصد کریں گے جس (یعنی حضرت امام مہدی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ) نے بیت اللہ شریف میں پناہ لے رکھی ہو گی لیکن جب وہ لوگ ایک بیابان میں پہنچیں گے تو انہیں زمین میں دھنسا دیا جائے گا۔ ‘‘ ہم (یعنی صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین ) نے عرض کی: ’’ یا رسول اللہ عَزَّ وَجَلَّوصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم! راستے میں کبھی کچھ اور لوگ بھی تو قافلے کے ساتھ مل جاتے ہیں (تو کیا وہ بھی ان کے ساتھ ہلاک ہو جائیں گے؟) ‘‘ شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ ہاں ! ان میں بیکس ومجبور بھی ہوں گے اورمسافر بھی، وہ سب یکبارگی ہلاک ہو جائیں گے اور پھر (قیامت کے دن) مختلف جگہوں سے ظاہر ہوں گے، اللہ عَزَّ وَجَلَّ انہیں ان کی نیتوں کے مطابق اُٹھائے گا ۔ ‘‘
(صحیح مسلم ،کتاب الفتن، باب الخسف بالجیش…الخ،الحدیث: ۷۲۴۴،ص۱۱۷۷)
{76}…صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ جب اللہ عَزَّ وَجَلَّ کسی قوم پر عذاب نازل فرماتا ہے تو وہ عذاب اس قوم میں شامل تمام افراد کو گھیر لیتا ہے پھر انہیں ان کی نیتوں کے مطابق اٹھایاجائے گا۔ ‘‘ (صحیح البخاری،کتاب الفتن، باب اذا انزل اللہ …الخ،الحدیث: ۷۱۰۸،ص۵۹۳، ’’ نیاتہم ‘‘ بدلہ ’’ اعمالہم ‘‘ )
{77}…نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ اپنے دین میں مخلص ہوجاؤ، تھوڑا عمل بھی تمہارے لئے کافی ہوگا۔ ‘‘ (المستدرک ،کتاب الرقاق ، الحدیث۷۹۱۴،ج۵،ص۴۳۵)
{78}…دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے اپنے اعمال میں اخلاص پیدا کرو کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ وہی عمل قبول فرماتا ہے جواس کے لئے اخلاص کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ ‘‘
(سنن الدارقطنی،کتاب الطہارت، باب النیۃ ،الحدیث: ۱۳۰،ج۱،ص۷۳)
{79}… سرکارِ والا تَبار، بے کسوں کے مددگارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ اے لوگو! اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے اخلاص کے ساتھ عمل کرو کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ وہی اعمال قبول فرماتاہے جو اس کے لئے اخلاص کے ساتھ کئے جاتے ہیں او ریہ مت کہا کرو کہ میں نے یہ کام اللہ عَزَّ وَجَلَّ اورر شتہ داری کی وجہ سے کیا ہے۔ ‘‘
(سنن الدارقطنی،کتاب الطہار ت ، باب النیۃ ،الحدیث: ۱۳۰،ج۱،ص۷۳)
{80}…شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار باِذنِ پروردگار عَزَّ وَجَلَّ و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ وہی عمل قبول فرماتاہے جو اخلاص کے ساتھ اور اس کی رضا کے لئے کیا جاتا ہے۔ ‘‘ (سنن النسائی،کتاب الجہاد،الحدیث: ۳۱۴۲،ص۲۲۹۰)
{81}… حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرعَزَّ وَجَلَّ وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عبادت اخلاص کے ساتھ کرو، پانچ وقت کی نماز قائم کرو، خوشدلی سے اپنے اموال کی زکوٰۃ ادا کرو، رمضان کے روزے رکھو اور اپنے رب عَزَّ وَجَلَّ کے گھر کا حج کرو تویقینا اپنے رب عَزَّ وَجَلَّ کی جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔ ‘‘
(کنزالعمال،کتاب الاخلاق،قسم الاقوال ،باب الاخلاص، الحدیث: ۵۲۵۶،ج۳،ص۱۲)
{82}… نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ اخلاص کے ساتھ ایک ہستی یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا کے لئے عمل کرو وہ تمام لوگوں کے مقابلے میں تمہیں کافی ہو گا۔ ‘‘ (الکامل فی الضعفاء الرجال،ج۸،ص۳۰۷)
{83}… نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ اعمال ایک برتن کی مانند ہوتے ہیں یعنی جب برتن کا پیندہ اچھا ہوگا تو اس کا بالائی حصہ بھی اچھا ہو گا۔ ‘‘
(سنن ابن ماجۃ ، ابواب الزھد، باب التوقی علی العمل ، الحدیث: ۴۱۹۹،ص۲۷۳۲)
{84}… رسولِ اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ اعمال اپنے انجام کے اعتبار سے برتن کی مانند ہوتے ہیں یعنی جب اس کا بالائی حصہ پاکیزہ ہو گا تو نچلا حصہ بھی پاک ہو گا اور اگر بالائی حصہ گندا ہو گا تو نچلا حصہ بھی گندا ہوگا۔ ‘‘ (کنزالعمال،کتاب الاخلاق،قسم الاقوال ،باب الاخلاص من الاکمال، الحدیث: ۵۲۸۳،ج۳،ص۱۳)
{$&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع